ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے اس سيمينار كے كنوينر ٫٫محمد جواد صاحبی ٬٬ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اسلامی شخصيات كے علمی آثار كی حفاظت اس مركز كے مقاصد میں سے ہے -
انہوں نے كہا كہ اب تك ٫٫علامہ شرف الدين جبل العاملی ٬٬ اور ٫٫محمد جواد بلاغی ٬٬ كے آثار كی جمع آوری ہو چكی ہے اور عنقريب علامہ بلاغی كے نام سے قم میں ايك سيمينار كا انعقاد كيا جاۓ گا - انہوں نے كہا كہ علامہ بلاغی نے اپنے زمانے میں مسيحيت اور یہوديت كے شبھات كا جواب ديا ہے اور ۱۹۲۰ عيسوی كے قيام میں انہوں نے قيمتی آثار تخليق كیے ہیں-
انہوں نے علامہ بلاغی كے تفسير ٫٫الاء الرحمن كو ايك نمونہ تفسير كے طور پر بيان كيا
انہوں نے علامہ بلاغی كے آثار كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ ا ن میں الاء الرحمان فی التفسير البہدی الی دين المصطفی ٬الرحلة المدرستہ والمدرسة السيار ٬الرسائل الفقہیہ و الفہارس الفقیہ قابل ذكر ہیں -
صاحبی نے كہا كہ جو بھی اس سيمينار میں مقالہ بھيجا چاہتا ہےوه اس ایڈريس پر رابطہ قائم كر سكتے ہیں :قم ٬خيابان صفائیہ كوچہ ممتاز ٬بلاك ۴۲ پوسٹ بكس نمبر ۳۱۱۴ / ۳۷۱۸۵ اور ای ميل ایڈريس balaghico @yahoo .com ہے -
واضح رہے كہ علامہ محمد جواد بلاغی حوزہ علمیہ نجف اشرف كے نامور عالم دين تھے كہ جنہوں نے ۱۲۸۲ ھجری قمری كو نجف اشرف میں آنكھ كھولی اور ۱۳۵۲ ھجری قمری كو رحلت كر گۓ –علامہ مرحوم نے مختلف علوم و فنون پر بے شمار قيمتی آثار رقم كی ہیں-