ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق غدير اور اس عظيم واقعہ پر چودہ صديوں سے متعدد تجزیے آ چكے ہیں جن میں متكلمين نے كلامی انداز میں اور مٶرخين نے اس واقعہ كی تاريخی حيثيت سے تحليل كی ہے –ادباء حضرات نے اپنے شعروں میں اور دوسرے مختلف شعبہ ھای زندگی سے تعلق ركھنے والے دانشوروں نے اپنے اپنے انداز میں كتابیں لكھی ہیں ليكن اس كے باوجود عصر حاضر میں یہ موضوع زندہ اور تازہ ہے كہ جس پر معاصر محقيقن نۓ انداز میں اپنی تحقيقات پيش كر رہے ہیں –كتاب مذكورہ ۱۵۸ صفحات پر مشتمل ہے جو ۲۰۰۷ ء میں منظر عام پر آئی ہے-