پاك افغان شيعہ سنی امن معاہدہ

IQNA

پاك افغان شيعہ سنی امن معاہدہ

11:45 - June 12, 2007
خبر کا کوڈ: 1553201
بين الاقوامی گروپ :پاكستان اور افغانستان كے شيعہ اور سنی قبائل كے مابين ايك امن معاہدہ طے پايا ہے جس كے مطابق فريقين نے علاقے میں فرقہ وارانہ تشدد كی صورت میں تمام معاملات مذاكرات كے ذريعے سے حل كرانے كی يقين دہانی كرائی ہے۔


ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق بی بی سی اردو سروس نے لكھا ہے



معاہدہ پر دستحظ اتوار كو پاكستان كے قبائلی علاقہ كرم ايجنسی میں منعقدہونے والے ايك سركردہ قبائلی جرگہ میں كیے گئے جس میں كرم ايجنسی كے توری (شيعہ) اور افغانستان كے زازی (سنی) قبائل نے بڑی تعداد میں شركت كی۔ جرگہ میں كسی سركاری اہلكار نے شركت نہیں كی۔

توری قبائل كے سربراہ كيپٹن ریٹائرڈ علی اكبر نے معاہدے كے بارے میں بی بی سی كو بتايا كہ فريقين اس بات پر متفق ہوگئے ہیں كہ كرم ايجنسی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں كی صورت میں وہ ايك دوسرے كو نشانہ نہیں بنائیں گے بلكہ گفت وشنيد سے تمام معاملات طے كریں گے۔

ياد رہے كہ اس سال چھ اپريل كو كرم ايجنسی میں شيعہ سنی فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں دونوں جانب سے سينكڑوں كے قريب كے لوگ ہلاك و زخمی ہوئے تھے۔ اطلاعات كے مطابق اس لڑائی میں كچھ ميزائل افغانستان كے زازی كے علاقہ سے پاكستان كے سرحدی دیہات پر داغے گئے جس میں جانی و مالی نقصانات بھی ہوئے تھے۔


افغانستان كے دو صوبوں پكتيا اور خوست كی سرحدیں پاكستان كے كرم ايجنسی سے ملتی ہیں۔ ماضی میں بھی پارہ چنار كے فرقہ وارانہ واقعات میں افغانستان كے قبائل شامل ہوتے رہے ہیں



علی اكبر كے مطابق فريقين نے كشيدگی كی صورت میں سرحد كے دونوں جانب امن وامان كی فضا برقرار ركھنے، دو طرفہ تجارت كو جاری ركھنے اور گاڑيوں كی آزادانہ آمد و رفت كو بحال كرنے پر بھی اتفاق كيا۔
ان كا كہنا تھا كہ جرگہ نے چاليس اركان پر مشتمل ايك مشتركہ كمیٹی بھی تشكيل دی جس میں دونوں طرف سے قبائلی مالكان اور سركردہ مشير شامل ہیں۔

انہوں نے بتايا كہ مذاكرات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئے جس میں دونوں طرف كے قبائل نے مختلف مسائل پر كھل كر اظہارخيال كيا۔

واضح رہے كہ افغانستان كے دو صوبوں پكتيا اور خوست كی سرحدیں پاكستان كے كرم ايجنسی سے ملتی ہیں۔ ماضی میں بھی پارہ چنار كے فرقہ وارانہ واقعات میں افغانستان كے قبائل شامل ہوتے رہے ہیں۔

نظرات بینندگان
captcha