ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق محيط سائیٹ نے لكھا ہے كہ مصر كے مفتی علی جمعہ نے ٹونی بليئر سے ملاقات میں دارالافتاء كی تاسيس كے حوالے سے بات كی تھی ٬ اور نامور علماء كے فتاوی كی اہميت پر بھی زور ديا تھا اور كہا تھا كہ معتبر اور صحيح فتاوی كے لیے معتبر اسلامی فقہی اداروں سے رجوع كيا جاۓ –
انہوں نے كہا كہ دينی علماء كو چاہیے كہ وہ اپنے فتاوی كو مسلمانوں كی حقيقی زندگی سے مطابقت دیں تاكہ ان دونوں میں گہرا رابطہ برقرار رہے –
برطانوی حكومت نے اس تجويز كا خير مقدم كيا ہے لہذا اسے عملی جامہ پہنانے پر كام شروع كر ديا گيا ہے –
138937