ايرانی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكناكی رپورٹ كے مطابق بلاگ گروپ نے لكھا كہ پيغمبر اسلامۖ نے اپنے خط كو عبد اللہ بن حذافہ كے حوالے كيا تاكہ وہ اسے بادشاہ ايران تك پہنچا دے ۔اگرچہ بعض مؤرخين كا كہنا ہے كہ عبداللہ كے علاوہ كوئی اور شخص ہے جيسے پيغمبرۖ نے خط ديا تھا۔
پيغمبر خدا ۖ نے خط اس طرح لكھا :بسم اللہ الرحمن الرّحيم،یہ خدا محمد رسول اللہۖ كی طرف سے بادشاہ فارس كسری كے نام ۔درود وسلام ہو اس شخص پر جو خدا اور رسول ۖ پرايمان لے آيا اور یہ گواہی دی كہ خدا ے واحدہ لا شريك كے علاوہ كوئی معبود نہیں ہے اور محمدۖ اللہ كے رسولۖ ہیں میں تمہیں اسلام كی جانب دعوت ديتا ہوں ،میں اللہ كی طرف سے تمام لوگوں كی ہدايت كيلئے بھيجا گيا ہوں تاكہ لوگوں كو عذاب سے ڈراؤں ۔تم اسلام قبول كر لو تاكہ سلامتی اور عافيت كے حقداربن جاؤ ۔جب یہ خط بادشاہ فارس كے سامنے پڑھ كر سنايا گيا تو اس نے اسے پارہ پارہ كر ديا۔