صفوی دور كے عظيم دانشور علامہ محمد باقر مجلسی سن ۱۰۳۷ ھ ق كو اصفہان میں پيدا ہوۓ –انہوں نے چار سال كی عمر میں اپنے والد علامہ محمد تقی مجلسی سے تعليم حاصل كرنے كا آغاز كيا اور فوق العادہ ذھين اور باصلاحيت ہونے كی وجہ سے ،انہوں نے چودہ سال كی عمر میں ،ملا صدرا سے اجازہ روايت حاصل كيا –علامہ شوشتری ،مرزا جزايری ،شيخ حر عاملی اور ملا محسن فيض كاشانی ان كے اساتذہ میں سے تھے –وہ قليل مدت میں ،صرف ،نحو ،معانی ،بيان ،لغت، رياضی ،تاريخ ،فلسفہ،حديث ،رجال،درایہ،اصول،فقہ اور كلام میں مكمل مہارت حاصل كرتے ہوۓ سب پر سبقت لے گۓ-
علامہ مجلسی اپنے والد محترم كی وفات كے بعد ،تعليم میں مصروف ہوگۓ اور كئی كتابوں كی تاليف كو اختتام تك پہنچايا –علامہ مجلسی نے اھلبيت ۜ كی احاديث كو جمع كرنے كےلیے ۱۱۰ جلدوں پر مشتمل گرانقدر كتاب ٫٫ بحار الانوار ٬٬ تحرير كی -علّامہ كی تاليفات كی تعداد چھ سو جلد ذكر كی گئی ہے –آخر كار آپ نے ۷۴ سال كی عمر میں وفات پائی اور اپنے والد گرامی كے جوار میں اصفہان كی جامع مسجد میں سپرد خاك كۓ گۓ –