يكم شوال كو عيد الفطر منائی جاتی ہے ۔عيد الفطر اسلام كی عظيم عيدوں میں سے ہے ۔تمام مسلمان ايك ماہ تك روزہ ركھنے اور دوسری عبادات انجام دينے كے بعد اس دن عيد مناتے ہیں ۔یہ ماہ رمضان كو الوداع كہنے كا دن ہے ۔اس دن روزہ ركھنا حرام ہے ۔تمام مسلمان ايك ماہ تك عبادت و بندگی كے بعد عيدالفطر كی نماز میں جوق در جوق شركت كرتے ہیں ۔امير المومنين حضرت علی علیہ السلام عيدالفطر كے بارے میں فرماتے ہیں : اے لوگو آج كا دن نيك افراد كے لئے اجر لينے كا دن ہے اور برے لوگ اس روز نقصان میں رہتے ہیں ۔روزہ دار مردوں اور عورتوں كو جو كم ترين اجر ملتا ہے وہ یہ ہے كہ ماہ رمضان كے آخری دن ايك فرشتہ یہ ندا ديتا ہے كہ اے بندگان خدا تمہیں بشارت دی جاتی ہے كہ جو گناہ تم نے ماضی میں انجام ديئے تھے وہ بخشش ديئے گئے ہیں اور باقی ماندہ عمر میں رضائے الہی كو حاصل كرو ۔
يكم شوال سنہ 201 ہجری قمری كو عباسی خليفہ مامون نے فرزند رسول امام علی رضا علیہ السلام سے نماز عيد الفطر پڑھانے كی درخواست كی ۔يكم رمضان المبارك كو جلسۂ ولی عہدی منعقد ہوا تھا اور مامون كے حكم سے امام رضا علیہ السلام كے نام كا سكہ تيار كيا گيا اور جمعہ كے خطبہ میں آپ كا نام شامل كيا گيا ۔نماز عيد الفطر پڑھانے كی درخواست پر امام نے فرمايا يا تو مجھے اس امر سے معاف كردے يا میں اسی شان سے نماز عيد كے لئے جاؤں گا كہ جيسے ميرے جدامجد حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جاتے تھے ۔مامون نے كہا آپ كو اختيار ہے جس طرح چاہیں جائیں ۔امام رضا علیہ السلام نے طلوع آفتاب كے بعد غسل كيا كپڑے بدلے سفيد عمامہ سر پر باندھا عطر لگايا اور عصا ہاتھ میں لے كر عيدگاہ جانے كے لئے آمادہ ہوگئے ۔گھر سے كثير مجمع كے ساتھ باہر نكلے ۔آسمان كی طرف رخ كركے كہا اللہ اكبر اللہ اكبر ۔حضرت كے ساتھ لوگوں نے بھی تكبير كی آواز بلند كی ۔آپ كی تكبير كے ساتھ محسوس ہوتا تھا كہ دروديوار اور آسمان و زمين سے تكبير كی آواز بلند ہورہی ہے ۔عالم دگرگوں ہوگيا مامون نے یہ كيفيت ديكھی تو تخت خطرے میں نظر آيا اور كہلوا بھيجا كہ فرزند رسول آپ زحمت نہ فرمائیں گھر كی طرف واپس ہوجائیں اور پھر مامون نے خود جاكر نماز پڑھائی ۔حضرت اپنے بيت الشرف واپس چلے گئے ۔
يكم شوال 253 ہجری كو تيسری صدی ہجری كے مشہور محدث محمد بن اسماعيل بخاری نے سمرقند كے ايك گاؤں فرہنگ میں وفات پائی ۔امام بخاری نے حصول علم كے لئے دور ونزديك كا سفر كيا ۔انہوں نے 16 سال كے عرصے میں صحيح بخاری تاليف كی ۔اس اہم كتاب میں 6 لاكھ احاديث میں سے 9 ہزار احاديث كا انتخاب كيا گيا ہے ۔ان كی دوسری اہم كتابوں میں الادب المفرد۔ التاريخ الكبير اور علم فقہ میں السنّن كا نام ليا جا سكتا ہے ۔
يكم شوال سنہ 569 ہجری قمری كو بغداد كے شاعر ، اديب ، مفسر اور لغت داں ابن دہّان كا انتقال ہوا ۔انہوں نے اپنے زمانے كے بہترين اساتذہ سے علم لغت حاصل كيا انہیں شعر و ادب میں بھی بہت دلچسپی تھی ۔ابن دہان كی بڑی لائبريری تھی جسے دريائے دجلہ كی طغيانی نے شديد نقصان پہنچايا۔اس نقصان كا ازالہ كرنے كے لئے انہوں نے بہت زيادہ كوششیں كیں ۔ابن دہان كی تحرير كردہ بہت كم كتب بچی ہیں اور یہ شعر و ادب سے متعلق قلمی نسخوں كی صورت میں ہیں ۔