ابو بكر محمد بن سيرين بصری ،فقیہ اور روای حديث تھے جنہوں نے تابعين سے بہت زيادہ احاديث نقل كی ہیں-وہ ۳۱ يا ۳۳ ھ ق كو پيدا ہوۓ –ابتداء میں وہ بزاز (كپڑا بيچنے كا كاروبار كرتے)تھے اور انتہائی حسين و جميل تھے. ايك دن ايك عورت انہیں كپڑا خريدنے كے بہانہ سے اپنے گھر لے گئی اور ان كو گناہ كی دعوت دی اور ان سے كہا :اگر تم نے ميری خواہش كو پورا نہ كيا تو میں تمہاری عزت كو خاك میں ملا دوں گی –ابن سيرين نے عورت كو متنفر كرنے كےلیے نجاست آلودہ ہو كر گناہ سے نجات حاصل كی – كہا جاتا ہے اس پرہيز گاری كے نتيجہ میں وہ خواب كی تعبير كے علم سے آگاہ ہوۓ-یہاں تك كہ ان كو ٫٫تالی يوسف صديق٬٬ كہا جاتا ہے – ان كی تمام تعبيرات سالم ذوق اور درخشاں فكر كی وجہ سے تھیں اور خواب كے واقعات كو آيات قرآنی ،احاديث نبوی اور بيرونی حقايق پر منطبق كرتے تھے –ابن سيرين ،احاديث پيغمبر اسلامۖ كو بہت زيادہ اھميت ديتے تھے اور حديث كو نقل اور حفظ كرنے میں بہت دقيق اور محتاط تھے . یہی دقت نظر باعث بنی كہ مایہ ناز مولف ان سے نقل ہونے والی روايتوں كو معبتر جانتے تھے. ابن سيرين اپنی زندگی كے دوران ۳۰ اصحاب پيغمبر ۖ كی خدمت میں حاضر ہوۓ تھے . مختلف زبانوں میں كئی كتابیں اور قلمی نوشتہ جات ان كی ياد تازه كرتی ہیں –شرعی مساﺋل میں نہايت درجہ احتياط ،ہر تيسرے دن روزہ ركھنے ،راتوںكو جاگنے ،حلم ،خوش اخلاقی ،بحث و جدال سے پرہيز ،اپنی خطاٶں كے اعتراف اور رحمت الھی كے بہت زيادہ اميدوار ہونے والی خصوصيات كی وجہ سے ابن سيرين ،زاہدوں اور پرہيزگاروں میں شمار كیے جاتے ہیں۔ اسی وجه سے سير وسلوك كے بارے میں كتابیں لكھنے والے انهیں پرہيز گاری اور تقوی كے نمونہ كے طور پر ياد كرتے ہیں -