آيت اللہ سيد اسماعيل بن احمد نوری طبرسی مازندرانی ،ايك عالم دين ،فقیہ ،اصولی ،محدث ،متكلم ،مدرس اور زاہد انسان تھے –وہ تيرھویں صدی ھجری شمسی كے اوايل (تيرھویں صدی ھجری عيسوی كے اواسط) میں صوبہ مازندران كے شہر ٫٫نور ٬٬ میں پيدا ہوۓ –انہوں نے ابتدائی تعليم سے فارغ ہونے كے بعد ،اپنی تعليم جاری ركھتے ہوۓ نجف اشرف كا رخ كيا- اور نجف اشرف میں ،شيخ مرتضی انصاری ،مرزا حبيب اللہ رشتی اور مرزا محمد حسن شيرازی جيسے نامور علماء كی خدمت میں فقہ اور اصول كے خارج كی تعليم حاصل كی اور وہ حديث اور كلام میں بھی ماہر استاد تھے-آيت اللہ نوری طبرسی علمی مقامات پر فاﺋز ہونے كے بعد فقہ اور اصول كی تعليم دينے میں مصروف ہوگۓ اور كئی شاگردوں كی تربيت كی –اس عظيم عالم دين نے ان سالوں كے دوران –تعليم دينے كے علاوہ گرانقدر كتابوں كی تاليف بھی كی ہے جن میں سے فارسی زبان میں ۳ جلدوں پر مشتمل كفایۃ الموحدين جس میں سے ايك جلد امامت كی بحث میں عصمۃ الولایۃ كے نام سے موسوم ہے – اور وسيلۃ المعاد فی شرح نجاۃ العباد اور اصول الفقہ كے نام قابل ذكر ہیں –آيت اللہ سيد اسماعيل نوری طبرسی نے آخر كار ۲۹ مہر ماہ ۱۲۸۲ ش بمطابق يكم شعبان ۱۳۲۱ ھ ق كو كاظمين میں وفات پائی اور امير المومنين علی ۜ كے حرم مطہر كے صحن میں دفن كردیے گۓ-