شيخ الفقہاء ،استاد الحكماء رﺋيس الادباء ،علامہ دھر ،شيخ الاسلام و المسلمين ،شيخ بھائی كے نام سے معروف شيخ بہاء الدين محمد بن عز الدين حسين بن عبد الصمد حارثی ،ہمدانی جبلی عاملی ،شہيد ثانی كے شاگردوں اور عظيم شيعہ علماء میں سے ہیں-سيخ بھائی ،فقیہ ،اصولی ،محدث،علم رجال كے ماہر ،مفسر ،رياضی دان ،حكيم ،متكلم،اديب،شاعر ،عقلی اور نقلی علوم پر حاوی اپنے زمانے كی اعلم ترين ھستی ہیں. وہ ۹۵۳ ھ ق كو لبنان كے شہر بعلبك میں پيدا ہوۓ –انہوں نے اپنی زندگی كے دوران ،دنيا كے مختلف علاقوں میں كئی سفر كیے اور مختلف مضامين میں مایہ ناز اساتذہ كی خدمت میں حاضر ہو كر كسب فيض كيا-شيخ بھائی نے ان سفروں كے دوران ،بہت سے علوم جيسے :ھﻴﺋت و نجوم ،رياضيات،تفسير قرآن ،فقہ و اصول ،علم حديث ،ادبيات فارسی و عربی طب اور انجينئرنگ میں خاصی مہارت حاصل كی اور ان تمام علوم میں كئی كتابیں تحرير كیں –وہ پہلی شخصيت ہیں جنہوں نے فارسی زبان میں غير استدلالی فقہ كا ايك دورہ لكھا-ملا صدرا،ملا محمد تقی مجلسی اول،محقق سبزواری ،ملا حسن علی تستری ،مرزا رفيعا نايينی ،سيد ماجد بحرانی ،ملا محسن فيض كاشانی ،ملا محمد صالح مازندرانی اور دسيوں دانشور شيخ بھائی كے شاگردوں میں سے تھے-شيخ بھائی كی تاليفات میں سے بعض كے نام یہ ہیں:كشكول ،اسرار البلاغہ اثنی عشريات ،خمس و اربعين حديثا ،جامع عباسی ،عين الحيات ،بحر الحساب اور دسيوں دوسری كتابیں –ان كے علمی اور انجينئرنگ شاہكار كو اصفہان كے مختلف مقامات میں ديكھا جاسكتا ہے-آخر كار شيخ بھائی نے ۷۷ سال كی عمر میں ،صفويوں كے دارالحكومت اصفہان میں وفات پائی اور انكی وصيت كے مطابق انهیں مشہد مقدس میں حضرت امام رضا ۜ كے جوار میں دفن كر ديا گيا-