استاد علی اكبر مالك سنہ ۱۲۹۰ ھ ش بمطابق ۱۹۱۱ (۱۳۲۹ھ ق) كو تہران میں پيدا ہوۓ –وہ ابتدايی تعليم كے بعد ،كالج میں چلے گۓ اور انہوں نے جلال الدين ہمای،عباس اقبال آشتيانی ،نصر اللہ فلسفی اور علامہ محمد حسين فاضل كونی جيسے اساتذہ سے استفادہ كيا –اس كے بعد وہ اعلی كالج میں چلے گۓ اور فارسی كی نثر اور نظم كے متون كے بارے میں تحقيق شروع كردی –استاد مالك پھر مدرسہ حقوق میں داخل ہوۓ اور كچھ مدت كے بعد ،انگريزی ،فرانسيسی اور جرمن زبانوں میں مہارت حاصل كركے ان زبانوں كی تعليم دينا شروع كردی –انہوں نے ان سالوں كے دوران ہميشہ ادبی محفلوں میں شركت كی اور اپنے مذھبی اور فنی آثار كو پيش كركے عاشقان اھل بيت ۜ كو سيراب كيا اور شعر و ادب كے چاہنے والوں كو فيض پہنچايا –استاد مالك كی پندرہ سے زاﺋد منظوم اور منثور تاليفات ہمارے درميان موجود ہیں جن میں سے نظم شعوں میں وادی عشق ،ترانہ دل ،سفر نامہ حج ،اور سلطان عشق اور نثر میں كشور مقتدر اسلامی اور ۲ جلدوں میں خاطرات اجتماعی و سياسی كے نام سرفہرست ہیں-استاد مالك نے اپنی زندگی كے آخری دنوں تك تفسير قرآن كريم اور اصول بديع اور قافیہ كی تعليم دينے كی محفلیں منعقد كیں اور اپنے كام كو ترك نہ كيا-
آخر كار اس انتھك خطيب نے ماہ آبان كے وسط ۱۳۷۷ ش بمطابق ۶ نومبر ۱۹۹۸ ،(رجب ۱۴۱۹ ھ ق )كو ۸۷ سال كی عمر میں وفات پائی-