بحرين كی قرمطی حكومت كے سربراہ ابو طاہر نے شہر مكہ پر حملہ كر كے اس شہ رپر قبضہ كر ليا اور حجاج كا قتل عام كر كے ان كا تمام مال و اسباب لوٹ ليا-اس نے كعبہ میں نصب مقدس پتھر حجر الاسود كو بھی ،قيديوں اور ان كے مال واسباب كے ہمراہ بحرين میں منتقل كر ديا حجر الاسود كی چوری نے اس دور كے مسلمانوں كو ہلا كر ركھ ديا اور مسلمانوں میں غم وغصہ كی لہر دوڑ گئی-حجر الاسود ۲۲ سال تك بحرين كے قرمطيوں كے قبضح میں رہا یہاں تك كہ سن ۳۳۹ ھ ق كو فاطمی خليفہ كی كوشش سے وہ پتھر واپس لايا گيا –فرقہ قرمطی انتہائی گمراہ اور شديد قسم كے عقايد ركھتا تھا اور وہ اپنے مخالف مسلمانوں كو قتل كرنا جائز سمجھتا تھا-