بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ كی رپورٹ كے مطابق دفتر تبليغات اسلامی كے تحقيقی امور كے نائب مدير اور ثقافت و علوم اسلامی تحقيقی سنٹر كے سرپرست حجة الاسلام و المسلمين احمد مبلغی ٬٬ نے آيت اللہ طاہری خرم آبادی سے ملاقات كی اس ملاقات میں مركز ثقافت و معارف قرآن كے سرپرست حجت الاسلام و الملسمين ٫٫ يوسف مقدم ٬٬ نے اس مركز كی قرآنی سرگرميوں كی رپورٹ پيش كی ۔
اس ملاقات میں آيت اللہ طاہری خرم آبادی نے فرمايا كہ دينی مدارس میں فقہ و اصول كے بر عكس قرآنی علوم پر توجہ نہیں دی جاتی ۔
انہوں نے فرمايا كہ ميری نظر میں تفسير قرآن پر بہت زيادہ كام ہونا چاہیے اور اگر كوئی شخص تفسير قرآن میں وارد ہونا چاہتا ہے تو اسے لمعہ ، مكاسب اور كفایہ جيسی علمی كتابوں كی نسبت زيادہ دقيقی آيات قرآنی كا مطالعہ كرنا چاہیے ۔
انہوں نے مزيد فرمايا كہ اب تك دينی مدارس میں تفسير كا درس اصلی درس شمار نہیں كيا جاتا جبكہ درس تفسير كو فقہ و اصول كی طرح اصلی درس قرار دينا چاہیے ۔
انہوں نے كہا كہ آيت اللہ خوئی نے تفسير كا درس شروع كيا تھا ليكن بعض لوگوں نے ان كو طعنے دينا شروع كر ديا تھا كہ یہ ان كی كم علمی كی دليل ہے جس كی وجہ سے وہ درس ختم ہو گيا تھا۔
انہوں نے تاكيد كی كہ دينی مدارس میں با قاعدہ تفسير قرآن كا درس ہونا چاہیے۔
انہوں نے كہا كہ آيت اللہ وحيد خراسانی نے حوزہ علمیہ قم میں ہر بدھ كو سورہ يس كی تفسير كا درس شروع كر كے بہت اچھا اقدام كيا ہے
205647