كربلا كے واقعہ اور امام حسين ۜ اور ان كے باوفا ساتھيوں كی شہادت اور اہل بيت ۜ كی اسيری كے بعد ٬مدينہ كے كچھ لوگ يزيد بن معاویہ لے طريقہ كار اور كردار سے آگاہی حاصل كرنے كی خاطر شام كی طرف روانہ ہوۓ یہ لوگ جب مدينہ واپس لوٹے تو انہوں نے مدينہ كے لوگوںكو يزيد كے فسق و فجور سے آگاہ كيا –مدينہ كے لوگوںنے يزيد كے گورنر عثمان بن محمد بن ابو سفيان ٬مروان بن حكم اور دوسرے تمام امويوں كو مدنیہ سے نكال دی ااور عبد اللہ بن حنظلہ كے ہاتھ پر بيعت كر لی-جب یہ خبر يزيد كے كانوں تك پہنچی تو اس نےمسرف و مجرم نامی معروف مسلم بن عقبہ كو ايك بہت بڑے لشكر كے ساتھ مدينہ كی طرف بھيجا لشكر شام نے حرہ كے نام سے معروف مدينہ سے باہر مسجد النبی ۖ سے ايك ميل كے فاصلہ پر واقع سنگستان میں مدينہ كے لوگوں سے جنگ شروع كر دی مدينہ كے لوگوں كی بہت بڑی تعداد قتل ہونے كے بعد باقی افراد مدينہ كی طرف بھاگ نكلے لشكر شام ان كا پيچھا كرتا ہوا مدينہ میں داخل ہو گيا مسرف بن عقبہ نے تين دن تك مدينہ كے لوگوں كے جان و مال اور ناموس كو اپنے لشكر والوں كے لیے حلال قرار ديا اور اس كے لشكريوں نے بھی كسی قسم كے ظلم و بربريت سے دريغ نہ كيا﴿حتی مسجد النبی میں زنا﴾ مسرف بن عقبہ نےمدينہ میں يزيد كے لیے وہ كام كيا جو سبر بن ارطاة نے اس سے قبل حجاز اور يمن میں معاویہ كے لیے كيا تھا اس واقعہ كے كچھ دن بعد مسرف بن عقبہ مكہ كی طرف جاتے ہوۓ واصل جہنم ہو گيا –يزيد كے سپاہيوں كے اس حملہ میں دس ہزار سے زائد افراد قتل ہوۓ اور یہ واقعہ ٫٫حرہ ٬٬ كے نام سے معروف ہوا-