جمعيت علمائے پاكستان كراچی كے ناظم اعلی شبيرابو طالب نے كہا ہے كہ امت مسلمہ بالخصوص پاكستان كو آج بھی يزيديت كا سامنا ہے جس سے چھٹكارے كيلئے حسينی نظریہ ہی سب سے بہترين لائن آف ايكشن ہے، یہ بات انہوں نے انجمن نوجوانان اسلام كے زيراہتمام كيماڑی ٹاؤن میں منعقدہ ”شہادت كانفرنس“ سے خطاب كرتے ہوئے كہی۔ اس موقع پر يو سی ناظم حافظ عبدالشكور نورانی، مولانا كبير رحمانی، شفيق قادری، محمد حسين و ديگر نے بھی خطاب كيا۔ شبير ابو طالب نے اپنے خطاب میں كہا كہ يزيديت ايك باطل نظريئے كا نام ہے جس میں آمريت، دھونس، منافقت اورعدم برداشت جيسے عناصر موجود ہوتے ہیں اور ان كا مقابلہ جان و مال كی قربانی كے عزم اور استقلال كے ساتھ ہی كيا جاسكتا ہے۔ انہوں نے كہا كہ آج ايك مرتبہ پھر قوم كويزيديت وقت كے خلاف سنت حسينی ادا كرنے كيلئے تيار ہونا ہوگا اوراگر آج بھی قوم اپنے اندر جذبہ حسينی بيدار كرے تو اپنی شخصيت سے ليكر اپنے معاشرے و ملك اور پورے عالم اسلام میں انقلاب نظام مصطفی برپا كيا جاسكتا ہے۔ انہوں نے كہا كہ كسی دين میں، واقعہ كربلا جيسا واقعہ اور كسی تاريخ میں نواسہ رسول جيسی تاريخی قربانی كی ايك بھی مثال موجود نہیں ہے۔ انہوں نے كہا كہ امام حسين كی عظيم قربانی نے مسلمانوں كونہ بكنے اور نہ جھكنے كا درس ديا ہے اس وقت دشمنان اسلام كی سازشوں كے خلاف مسلمانوں كے تمام طبقات اور مكاتب فكر میں اتحاد اور يكجہتی كی اشد ضرورت ہے اور یہی فلسفہ واقعہ كربلا ہے۔