جب كسی مقام يا قبيلے كو شكست ہوتی تو وہ اس كے غم اور عزا میں بیٹھ جاتے اور رنگين لباس اتار ديتے اور اس كی جگہ سياہ لباس پہن ليتے اور جب تك انتقام نہیں لے ليتے تھے عورتوں كے نزديك نہیں جاتے تھے دلچسپ یہ ہے كہ وہ انتقام كے جذبے كو زندہ ركھنے كے لیے گریہ نہیں كرتے تھے كہ كہیں اس كی وجہ سے وہ پر سكون نہ ہو جائیں ۔
مسلمانوں كو مشركين كے خلاف پہلی جنگ میں كہ جسے جنگ بدر كہا جاتا ہے غيبی امداد سے فتح نصيب ہوئی جبكہ مسلمانوں كی تعداد مشركين كے مقابلے میں بہت كم تھی یہ جنگ مشركين پر بہت گراں تمام ہوئی ابو سفيان اور اس كی بد خصلت جگر خوار بيوی ٫٫ ھند ٬٬ نے گریہ و زاری كو ممنوع قرار ديا اور مشركوں نے ، جب تك كہ وہ اپنی شكست كا مسلمانوں سے انتقام نہ لے لیں اپنے پر بيوی كے نزديك جانا اور خوشبو لگانا حرام قرار ديا تھا ۔
پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عزاداری
انسان ان مصيبتوں كی وجہ سے عزا اور غم كا اظہار كرتا ہے كہ جن كا انسان كو اپنی زندگی میں سامنا كرنا پڑتا ہے اور پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پيدائش سے پہلے ہی ان مصائب و آلام سے دوچار ہوۓ كيونكہ عظيم ہستياں حوادث میں ہی پرورش پاتی ہیں اور اس كی وجہ سے ان كی شخصيت میں اور نكھار آتا ہے حضرت ۖ كی پيدائش سے پہلے ہی آپ كے والد گرامی حضرت عبد اللہ علیہ السلام كی رحلت كا درد ناك واقعہ پيش آيا كہ جس نے حضرت عبد المطلب ، حضرت آمنہ ۜ اور ھاشمی خاندان كو عزادار بنا ديا ۔
آپ ۜ كی پيدائش كے بعد واقعہ فيل پيش آيا اور پھر جب صرف چھ سال كے تھے تو آپ ۖ كی مہربان ماں نے داغ مفارقت ديا ۔
پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كے دكھ اور درد ابھی تمام نہیں ہوۓ تھے كہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كے دادا اور سرپرست حضرت عبد المطلبۜ كا سایہ اٹھ گيا كہ ايك مرتبہ پھر يتيم قريش كو عزادار بننا پڑا ۔
حضرت عبد المطلبۜ كی وفات كے بعد حضرت ابو طالب ۜ اور ان كی وفا دار بيوی حضرت فاطمہ بنت اسد ۜ نے آپ كی پرورش كا بیڑہ اٹھايا ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كے چچا اور سيد قريش حضرت ابو طالب علیہ السلام نے ہر مرحلے پر آپ كی بے دريغ حمايت كی ۔ جبكہ آپ ۖ كی وفادار بيوی حضرت خديجہ ۜ نے آپ كی مالی معاونت كی ، حضرت خديجہ ۜ ايك با كمال بيوی تھیں انہیں آپ كی لخت جگر حضرت فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا كی ماں ہونے كا بھی شرف حاصل تھا ۔ حضرت خديجہ نے حضرت ابو طالب ۜ كی وفات كے تھوڑے ہی عرصہ بعد اس دارفانی كو وداع كيا ان كی وفات رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا كے لیے غم كا پہاڑ تھی اور اس سال كو رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عام الحزن كا نام ديا يعنی غم و اندوہ كا سال ۔
پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام كے محافظ اپنے چچا حضرت ابو طالب ﴿ كہ جنہوں نےفرعون كے زمانے كے مومنوں كی طرح اپنے ايمان كو آشكار نہیں كيا تھا ليكن وہ مومنين كے لیے نمونہ تھے ﴾ كی رحلت پر گریہ فرمايا اور اپنی با وفا بيوی حضرت خديجہ ۜ كے فراق كو بھی برداشت كيا ۔
نقل ہوا ہے كہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا كہ جو اپنی ماں كی وفات كے وقت صرف پانچ سال كی تھیں اپنی ماں كے فراق كے غم میں اپنے باپ سے پوچھتیں ميری ماں كو كيا ہو گيا ہے تو اسی وقت حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جبرائيل نازل ہوۓ اور عرض كی كہ اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا سے كہہ ديجیۓ كہ وہ بہشت میں بہترين مقام پر ہیں تو اس خبر كی وجہ سے عزادار حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا كو كچھ سكون ملا ۔
ہجرت كے چوتھے سال امير المٶمنين علیہ السلام اور حضرت زھراء سلام اللہ علیھا پر ايك اور مصيبت آئی كہ مدينہ منورہ میں حضرت فاطمہ بنت اسدۜ نے اس فانی دنيا سے كوچ كيا ۔ حضرت علی علیہ السلام گریہ كرتے ہوۓ مسجد میں تشريف لاۓ اور رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كو اپنی ماں كی رحلت كی خبر سنائی ، پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ خبر بہت گراں گذری ۔ آپ حضرت زھراء سلام اللہ علیھا اور حضرت علی علیہ السلام كے گھر تشريف لاۓ اور مادر گرامی حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیھا كی عزاداری میں حضرت فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا ، اور حضرت علی علیہ السلام كے ساتھ شريك ہوۓ كيونكہ آپۖ فرمايا كرتے تھے كہ فاطمہ بنت اسد ۜ ميری بھی ماں تھیں پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماں ﴿ فاطمہ بنت اسدۜ ﴾ كی نماز جنازہ پڑھی اور ان كو اپنے لباس كا كفن پہنايا تاكہ پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كے لباس كی وجہ سے قبر ان كے لیے آرام دہ ثابت ہو اور حضرت فاطمہ بنت اسد ۜ كے پيكر پاك كو قبر میں اتارنے سے پہلے آپۖ تھوڑی دير كے لیے قبر میں سوۓ تاكہ قبر كی فضاء فاطمہ بنت اسدۜ كے لیے مانوس ہو جاۓ اس كے بعد آسمان كی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھاۓ اور دعا كی كہ خدايا ميری ماں فاطمہ بنت اسد ۜ كو بخش دے ۔
پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی عزاداری كا ايك اور جلوہ جنگ احد میں آپۖ كے چچا حضرت حمزہ علیہ السلام كی شہادت كے وقت پيش آيا ۔
اس جنگ میں جگر خوار ھند كی سازش سے حضرت حمزہ علیہ السلام شھيد ہوۓ اس بد كردار عورت نے آپ كے جسم كا مثلہ كيا پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس واقع سے بہت غم زدہ ہو ۓ ۔
كيونكہ آپ كو اپنے چچا حضرت حمزہ علیہ السلام سے بہت محبت تھی ۔
اور جب لوگ شھداۓ احد كے غم میں گریہ اور عزاداری كر رہے تھے تو پيغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمايا : ميرے چچا حمزہ پر كوئی رونے والا نہیں ہے مسلمانوں نے جب یہ سنا تو اپنے شھداء پر ماتم كرنا چھوڑ ديا اور حضرت حمزہ كے غم میں عزاداری اور ماتم كرنا شروع كر ديا خاندان رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی حضرت حمزہ علیہ السلام سے محبت اور مودت كا یہ عالم ہے كہ حضرت فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا ہر شب جمعہ كو ان كے مزار پرجاتیں اور گریہ كرتی تھیں ۔
عزاداری كا ايك اور جلوہ جنگ موتہ میں حضرت جعفر بن ابی طالب علیہ السلام كی شہادت كے موقعہ پر سامنے آيا روميوں كے خلاف اس معركہ میں حضرت جعفر علیہ السلام كے دونوں بازو كٹ گۓ تھے ۔ جب حضرت جعفر علیہ السلام كی شہادت كی خبر مدينہ پہنچی تو خاندان رسول خدا اور امير المٶمنين علیہ السلام نے مجلس عزا برپا كی اور پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت جعفر كے گھر تشريف لے گۓ اور حضرت جعفر ۜ كی بيوہ اسماء بنت عميس كو تسليت كہی اور حكم ديا كہ ۳ دن تك حضرت جعفر كے گھر میں تعزيت كے لیے آنے والوں كو كھانا ديا جاۓ اور اس كام میں حضرت فاطمہ زھراء سلام اللہ علیھا پيش پش تھیں ۔
حوالہ جات
1. الطبری ، محمد بن جرير ، تاريخ الامم و الملوك ، حوادث سال دوم و سوم ھجری
2. سيرہ ابن ہشام ، طبع قديم ، ج ۱ ص ۱۸۹ ، بحار الانوار طبع بيروت ، موسسہ محمودی ، ج ۱۵ ، ص ۲۴۱
3. ايضا
4. اثبات الوصیہ ، مسعودی ، ص ۱۸۰
5. طبری ، حوادث سال دھم بعثت
6. بحار الانوار ، مناقب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا
7. ايضا
8. طبری ، حوادث سن ۳ ہجری
9. ايضا
10. سيرہ ابن ہشام ، ج ۱ ، ص ۳۳۶ ، بلاذری ، احمد بن جابر ، انساب و الاشراف ، چاپ اعلمی ، بيروت ، ۱۳۹۴ ، ھ ق ، ص ۴۳، منبع مباحثی پيرامون ، بھاء الدين قہرمانی نژاد ، شايق
212477