٫٫ قاضی نذر الاسلام ٬٬ كے محرم كی مناسبت سے آثار پر ڈھاكہ میں سيمينار

IQNA

٫٫ قاضی نذر الاسلام ٬٬ كے محرم كی مناسبت سے آثار پر ڈھاكہ میں سيمينار

9:10 - January 24, 2008
خبر کا کوڈ: 1622870
اعزازی خبر نگار / ڈاكٹر سيد محمد رضا ہاشمی : قاضی نذر الاسلام كے محرم كی مناسبت سے آثار جنہیں نذر الاسلام تحقيقی سنٹر نے مہيا كيا ہے انہی آثار پر ڈھاكہ میں ايرانی رايزنی فرھنگی كے ھال میں سيمينار منعقد كيا گيا ۔


{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كے اعزازی خبر نگار كی رپورٹ كے مطابق ڈھاكہ میں یہ سيمينار منعقد كيا گيا جس میں مختلف مذھبی اور سماجی شخصيات اور شيعہ و سنی عوام نے بھر پور شركت كی ۔ اس سيمينار كی انتظامیہ كمیٹی میں ڈھاكہ میں ايران كے سفير ٫٫ فرازندہ ٬٬ رايزنی فرھنگی كے سربراہ ٫٫ ڈاكٹر ھاشمی ٬٬ ، ڈاكٹر اشرف صديقی ، اسد الحق اور راشد حسين شكی شامل تھے ۔
قاضی نذر الاسلام كے بارے تحقيق كرنے والے محقق صديقی نے بنگلہ ديشی عوام میں امام حسين علیہ السلام اور عاشورا كے حوالے سے خاص اعتقادات كا ذكر كرتے ہوۓ كہا كہ بنگالی عوام عرصہ دراز سے امام حسين علیہ السلام سے آشنا ہے اور تمام شيعہ اور سنی مل كر امام حسين علیہ السلام كی ياد مناتے ہیں اور یہ امام حسين علیہ السلام كی ياد ہمیں اپنے آباو و اجداد سے ورثہ میں ملی ہے ۔
ايرانی رايزنی فرھنگی كے سربراہ ھاشمی نے كہا كہ امام حسين علیہ السلام كی بابت مرثیہ گوئی كی رسم بنگلہ ديش میں عرصہ قديم سے رائج ہے اور مير مشرف حسين وقائع نے واقعہ كربلا كو ناقص اور تحريف شدہ صورت میں بيان كيا ہے ليكن نذر الاسلام نے جو اشعار محرم اور اھل بيت علیھم السلام كے بارے بيان كیے ہیں وہ تحريف سے مبرّا ہیں ۔
انہوں نے مزيد كہا كہ امام حسين علیہ السلام كے حوالے سے لكھنے والے شعراء اور مصنفين كی بارز خصوصيت یہ ہونی چاہیے كہ وہ آزاد انديش ہوں اور قاضی نذر الاسلام انہی خصوصيات كے حامل تھے ۔ ڈھاكہ میں ايرانی سفير ٫٫ حسن فرازندہ ٬ نے انگريزی زبان میں خطاب كرتے ہوۓ حضرت امام حسين علیہ السلام كے عظيم مكتب كو بيان كيا اور آپ علیہ السلام كی عزاداری میں شركت ، آپ كے مصائب ، مظلوميت كے سننے كو بہت بڑا اعزاز قرار ديا جو ہر شخص كو نصيب نہیں ہوتا ۔
انہوں نے كہا كہ كربلا كے مصائب كی گہرائی كو سمجھنا اور انہیں جامع اور كامل صورت میں بيان كرنا بہت مشكل امر ہے ليكن اس تاريخی واقعہ كے جو گوشے روايات اور احاديث میں آۓ ہیں وہ اس واقعہ كے بعض نكات كو بيان كرتے ہیں ۔
ايرانی سفير نے قرآنی آيات اور پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی احاديث كی روشنی میں امام كے مقام كو بيان كرتے ہوۓ انہیں چراغ ہدايت اور كشتی نجات سے تعبير كيا اور كہا كہ بحرانوں سے نجات اور معاشرتی برائيوں سے چھٹكارا كا واحد راستہ امام سے تمسك ہے ۔
اسی پروگرام مں قاضی نذر الاسلام كے كلام كو دو شعراء ، شفيق كمال ، اور محمد عبد الجنان نے پيش كيا ۔
نظرات بینندگان
captcha