آيات قرآنی میں غور و خوض كرنا بصيرت اور دينی معرفت میں اضافے كا باعث ہے

IQNA

آيات قرآنی میں غور و خوض كرنا بصيرت اور دينی معرفت میں اضافے كا باعث ہے

11:10 - January 28, 2008
خبر کا کوڈ: 1624090
فكر و نظر گروپ : ايران كےشہر بناب میں ادارہ تبليغات اسلامی كے سربراہ نے كہا كہ قرآن كريم میں غور و خوض كرنا انسان كی بصيرت میں افزائش اور دينی معرفت میں اضافے كا باعث بنتا ہے ۔
{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } سے ادارہ تبليغات اسلامی بناب كے سربراہ حجة الاسلام و المسلمين ٫٫ رسول يگانہ ٬٬ نے بات چيت كرتے ہوۓ كہا كہ قرآنی آيات میں تدبر اور غور و خوض كرنا انسانی بصيرت اور دينی معرفت میں اضافے كا باعث بنتا ہے اور قرآنی معارف سے اگر الہام ليا جاۓ تو یہ انسان كو اس كی سعادت حقيقی كی طرف راہنمائی كرتا ہے اور اسی حوالے سے احاديث میں بھی وارد ہوا ہےكہ ايك گھنٹہ فكر كرنا ستر سال كی عبادت سے بہتر ہے ان احاديث میں بھی تفكر و تدبر كی اہميت كا اندازہ ہو تا ہے ۔
انہوں نے بعثت انبياء كے مقاصد كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ انبياء كو بھيجنے كا مقصد روحانيت كا ارتقاء ، دنی اقدار كی سر بلندی اور مكارم اخلاق كی تشريح تھا تاكہ انسانوں كو سيدھی راہ دكھائی جا سكے اور انہی مقاصد كی تكميل كے لیے كتب آسمانی كا نزول ہوا ، قرآن وہ كتاب ہے جو ۱۴۰۰ سو سال پہلے نازل ہوئی ليكن اس كی تعليمات اس زمانے كے لوگوں سے مخصوص نہ تھیں بلكہ یہ تاريخ كے تمام ادوار كے انسانوں كی فردی اور معاشرتی ضروريات كو پورا كرنے والی ہیں ۔ انہوں نے كہا كہ آج ثقافتی يلغار اپنے عروج پر ہے لہذا ہمیں چاہیے قرآنی تعليمات اور اسلامی اقدار كو معاشرے میں عام كریں تاكہ نسل جوان كی صحيح سمت راہنمائی كی جا سكے ۔
215811
نظرات بینندگان
captcha