– اس كے بعد ۲۵ سال كی عمر میں وہ حوزہ علمیہ قم میں داخل ہوۓ اور آيات عظام : حاج شيخ عبد الكريم حائری يزدی ٬شيخ مہدی حكمی قمی ٬شيخ ابوالقاسم كبير قمی اور سيد محمد حجت كوہ كمری كے فقہ و اصول كے دروس خارج میں شريك ہو كر علم كے اعلی مراتب پر فائز ہوۓ –آيت اللہ عارفی ، رضا خان كی آمريت كے دور میں ٬ اراك میں بے پردگی كے خلاف اور اسلامی شعائر كے تحفظ كی مناسبت سے خطاب كرنے كی وجہ سے حكومت كی نظروں مين آ گئے – اس كے بعد كافی عرصہ تك وہ بير جند میں مخفی طور پر زندگی گزارتے رہے۔ آخر كار انہیں گرفتار كر كے جيل بھيج ديا گيا – رہائی كے بعد وہ بير جند میں قيام پذير ہو ئے اور ۵۰ سال سے زائد عرصہ تك دين كی تبليغ ٬شاگردوں كی تعليم و تربيت اور نماز جماعت قائم كرنے میں مشغول رہے۔ انہون نے اپنی انتھك كوششوں سے اس شہر میں حوزہ علمیہ كی بنياد ركھی – آخر كار اس عظيم فقیہ نے ۴ اسفند ۱۳۸۰ ھجری شمسی بمطابق عيد سعيد قربان كی رات سنہ ۱۴۲۲ ھجری قمری كو ۱۰۸ سال كی عمر میں وفات پائی اور انہیں بير جند كے مدرسہ معصومیہ میں سپرد خاك كر ديا گيا -