IQNA

13:33 - April 17, 2008
خبر کا کوڈ: 1643948
امام حسن بن علی علیہ السلام(عسكری) دسویں امام كے بیٹے ھیں۔ آپ كی ولادت ۲۳۲ھء میں ھوئی۔

گيارھویں امام اپنے والد كی شھادت كے بعد حكم خدا اور گزشتہ ائمہ طاھرين علیھم السلام كے تقرر سے امامت كے بلند منصب پر فائز ھوئے۔ آپ اپنی سات سالہ امامت كے دوران خليفہ كی سختيوں اور ظلم و ستم كے باعث تقیہ كی حالت میں بڑی احتياط سے قدم اٹھاتے تھے۔ لھذا آپ عام لوگوں كو حتیٰ شيعوں كو بھی اپنے پاس آنے كے اجازت نھیں ديتے تھے، سوائے ان خاص افراد كے جن كو آپ ذاتی طور سے جانتے تھے اس طرح آپ زيادہ تر نظر بندی كی زندگی گزارتے رھے۔

ان تمام سختيوں اور دباؤ كا مقصد یہ تھا كہ سب سے پھلے تو اس زمانے میں شيعوں كی تعداد اور طاقت قابل توجہ حد تك پھنچ چكی تھی اور چونكہ شيعہ امامت كے قائل ھیں، یہ بات سب پر واضح اور روشن ھو چكی تھی اور شيعوں كے ائمہ بھی جانے پھچانے تھے، اسی لئے ھر خليفہ، امام وقت كو زيادہ سے زيادہ زير نظر اور زير كنٹرول ركھتا تھا اور جس طرح بھی ممكن ھوتا اپنے خفیہ منصوبوں كے ذريعہ ائمھ(ع) كو ختم كرنے كی كوشش كرتا تھا۔

دوسرے یہ كہ خليفہ كو معلوم ھو چكا تھا كہ شيعہ گيارھویں امام(ع) كے بیٹے پر ايمان ركھتے ھیں اور گيارھویں امام(ع) اور اسی طرح گزشتہ ائمہ كی احاديث سے پتہ چلتا تھا كہ یھی فرزند امام مھدی موعود(ع) ھونگے جن كے بارے میں حديث متواترہ كے ذريعہ خاص و عام نے اطلاع دی ھے اور ان كو بارھواں اور آخری امام مانتے ھیں۔

اسی وجہ سے گيارھویں امام دوسرے تمام آئمہ علیھم السلام سے زيادہ خليفہ كے زير نظر تھے اور خليفۂ وقت بھی پختہ ارادہ كر چكا تھا كہ جس طرح بھی ھو ، شيعہ امامت كی كھانی كو ختم كردے اور اس دروازے كو ھميشہ كے لئے بند كردے۔

اس طرح جونھی گيارھویں امام(ع) كی علالت كی خبر خليفہ كو پھنچی تو اس نے فوراً آپ كے پاس طبيب اور حكيم بھيجے اور ساتھ ھی اپنے چند قابل اعتماد افراد كو آپ كے گھر میں متعين كرديا جو قاضی تھے۔ وہ ھميشہ آپ كے ساتھ ساتھ رھتے تھے، گھر كے اندر اور باھر كے حالات پر نظر ركھتے تھے۔ امام كی شھادت كے بعد بھی آپ كے خانۂ مبارك كی تلاشی لی گئی اور دائيوں كے ذريعے آپ كی كنيزوں كا معائنہ كرايا گيا۔ دو سال تك خليفہ كے گماشتے آپ كے بیٹے كو تلاش كرنے كی كوشش كرتے رھے، یھاں تك كہ بالكل نا اميد اور مايوس ھو گئے۔

گيارھویں امام كو ان كی شھادت كے بعد ان كے گھر كے اندر شھر سامرا میں ان كے والد ماجد كے پھلو میں دفن كيا گيا۔

یہ جان لينا چاھیے كہ ائمہ اھل بيت(ع) نے اپنی زندگی میں علما، محدثين اور دانشوروں كے بھت زيادہ گروھوں كو زيور علم سے آراستہ كيا ھے كہ جن كی تعداد سينكڑوں اور ھزاروں تك پھنچتی ھے كے اختصار كے پيش نظر ھم نے ان كے ناموں، حالات اور كتابوں كی فھرستیں لكھنے كو نظر انداز كرديا ھے ۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: