حجة الاسلام جناب محمد علی رضايی اصفھانی نے ايران كی بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی '' ايكنا'' سے بات چيت كرتے ہوئے كہا كہ قرآن میں تمام علوم كا علم پايا جاتا ہے اور ہمارا اعتقاد ہے كہ قرآن كا تعلق صرف اسلامی علوم سے نہیں ہے بلكہ تمام انسانی علوم سے ہے۔ انھوں نے كہا كہ دوسرے لفظوں میں يوں كہا جائے كہ قرآن انجيل كی مانند نہیں ہے كہ جس كا كوئی علمی دعوی نہیں، يعنی كوئی یہ دعوی نہیں كرتا كہ انجيل سياسی ، اقتصادی اور معاشرتی مسائل میں اپنے قوانين پيش كرے۔ جناب رضايی نے مزيد كہا كہ انجيل نے صرف حضرت عيسی علیہ السلام كی داستان بيان كی ہے ليكن اگر قرآن میں غوروفكر كيا جائے تو معلوم ہو گا كہ ۷۰۰ سے زيادہ مقامات پر كلمہ علم كو استعمال كيا گيا ہے اور بارہا علوم كی طرف اشارہ كيا ہے۔ اور علوم قرآنی میں ۱۳۲۲ ايسی آيتیں ذكر كی گئیں ہیں جن كا تعلق علمی ابحاث سے ہے۔
242773