رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوری نظام كی عقيدتی اور سياسی سرحدوں كو ممتاز اور نماياں ركھنے كے لئے مختلف امور پر امام خمينی (رہ) كی تاكيد اور بعض متعلقہ نكات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: اسلامی انقلاب كے تشخص كی حفاظت كے لئے امام خمينی (رہ) ڈيموكریٹك جيسے الفاظ استعمال كرنے سے منع كرتے تھے اور انقلاب كے دينی و عقيدتی تناظر میں نئی اصطلاح وضع كرنے كی ضرورت پر تاكيد كرتے تھے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امام خمينی (رہ) كی قيادت میں آنے والے اسلامی انقلاب كو خلاقيت اورابتكار عمل قرارديتے ہوئے فرمايا: یہ خلاقيت اور ابتكار عمل امام خمينی (رہ) كی روش اور حركت میں ہميشہ نظر آتا تھا جيسا كہ ڈيموكریٹك جمہوریہ كے بجائے اسلامی جمہوریہ كی اصطلاع كا استعمال اور اسی طرح حكومت اور سلطنت كے بجائے لفظ ولايت كا استعمال در حقيقت اسلامی جمہوری نظام كی سرحدیں مشخص اور واضح كرنے كے لئے تھا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حكومت و سلطنت اور ولايت كے درميان فرق بيان كرتے ہوئے فرمايا: ولايت وہ اقتدار ہے جو اخوت و رفاقت كے ہمراہ ہوتا ہے اور حكومت و سلطنت كی جگہ اس لفظ كے انتخاب كے معنی یہ ہیں كہ اسلامی نظام، دينی عقائد كی بنياد پر استوار سياسی نظام پر يقين ركھتا ہے اور یہ دنيا كے دوسرے سياسی نظاموں اور اسلامی جمہوری نظام كے درميان سرحدیں واضح كرنے پر امام (خمينی رہ) كے خصوصی اہتمام كی واضح علامت ہے۔
رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے سياسی جماعتوں، تنظيموں اور كاركنوں كواغيار سے اپنی سرحدوں كےفرق كو واضح و نماياں ركھنے پر امام خمينی (رہ) كی نصيحتوں كوياددلاتے ہوئے فرمايا: سياسی اور عقيدتی سرحدیں، جغرافيائی سرحدوں كی مانند ہیں، اگر ان كی اہميت كم ہوجائےاور ان كے سلسلے میں حساسيت ختم ہو جائے توممكن ہے بہت سے اپنے لوگ، نادانستہ طور پر دوسروں كی سرحدوں میں اور دوسرے لوگ ، اسلامی انقلاب كی سرحدوں میں داخل ہو جائیں۔
رہبر معظم نے اسی سلسلے میں فرمايا: افسوس ہے كہ ہمارے ملك میں یہ سب رونما ہوا ہے اور بعض اوقات غفلت كی بنا پر عقيدتی اور سياسی سرحدوں كی حفاظت نہ ہوئی جس كے نتيجے میں امام خمينی (رہ) اور انقلاب اسلامی سے والہانہ محبت اور عشق ركھنے والے لوگ غير دانستہ طور پر سرحدوں سے خارج ہوگئے اور باہر كی فضا میں رہ كر ان میں كافی تبديلی پيدا ہوگئی ۔
رہبر معظم نے فرمايا: دوسری طرف سے بھی كچھ لوگ كسی مشكل كے بغير اور غلط طور پر سرحدوں میں داخل ہوگئے ، لہذا سب پر لازم ہے كہ ہوشيار رہیں اور عقيدتی اور اسلامی جمہوری نظام كی سياسی سرحدوں كو ممتاز اور نماياں ركھنے كے سلسلے میں تلاش و كوشش كریں۔
رہبر معظم نے تاكيد كرتے ہوئےفرمايا: اسلامی انقلاب كی كاميابی كے بعد دس سال كی پر بركت زندگی میں امام خمينی (رہ) نے اپنی تحرير و تقرير كے ذريعہ بنيادی اصولوں اور سرحدوں كو واضح كيا ہے جوآج بھی اسلامی نظام كی بنيادی سرحدیں اور نماياں اصول ہیں رہبر معظم نے فرمايا: اسلامی نظام مسلسل آگے كی سمت گامزن رہنے اور اپنے اندر ہی مسلسل توانائياں پيدا كرنے والا نظام ہے جيسے سورج كی توانائی اس كے اندر سے ہی پيدا ہوتی رہتی ہے اور اس كا سب سے واضح ثبوت یہ ہے كہ گزشتہ برسوں كے دوران اسلامی انقلاب كی شمع خاموش كرنے كی دشمنوں كی تمام كوششیں اور سازشیں ناكام ہو گئی ہیں۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی كی نسبت دشمنوں كے پاس وسيع ذرائع ابلاغ اور علمی برتری ،مالی اور انسانی وسائل كی طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا: اس عدم توازن كے باوجود جب بھی بڑی طاقتوں اور اسلامی انقلاب كے درميان مقابلے كی صورت پيدا ہوئی ہے توكاميابی اسلامی جمہوریہ ايران كا مقدر بنی ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ تيس برسوں سے جاری و ساری ہے۔
رہبر معظم نے فرمايا: اس سے انقلاب اسلامی كی اندرونی طاقت اور بہت بڑی ظرفيت كا پتہ چلتا ہے
رہبر معظم نے اسلامی نظام كی علاقائی طاقت اور قدرت اور عالمی و علاقائی سطح پر اس كی تاثير كی طرف شارہ كرتے ہوئے فرمايا: ابھی ہم نے انقلاب اسلامی كی تمام توانائيوں اور صلاحيتوں سے استفادہ نہیں كيا ہے اور انقلاب كے تمام وسائل سے استفادہ كيا جائے تو یہ ايك عظيم اور سرشار سمندر ہے۔
رہبر معظم نے وسيع پيمانے پر سازشوں كے باوجود بڑی طاقتوں كے سامنے اسلامی نظام كی كامياب مزاحمت كو ملك كی تاريخ كا بے نظير واقعہ اور معجزہ قرار ديتے ہوئےفرمايا: اس كی حقيقی اور جامع مثال صرف تاريخ اسلام اور آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم كے دس سالہ دور حكومت میں ملتی ہے كہ جس كا كسی اور دور سے موازنہ نہیں كيا جا سكتا۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امام خمينی (رہ) كی برسی كے پروگراموں كے انعقاد كی اہميت اور عوام كے ان سے والہانہ عشق و محبت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمايا: عوام كی جانب سے امام خمينی (رہ) كےساتھ والہانہ عقيدت و محبت پوری دنيا میں لاجواب اور بے مثال ہے اور اس میں قابل توجہ امر،ان جوانوں كی وسيع پيمانے پر شركت ہے جنھوں نے امام خمينی (رہ) كو نہیں ديكھا ہے ليكن ان كے ساتھ محبت كا اظہار كرتے ہیں اور یہ امام خمينی (رہ) كی پركشش شخصيت ہے جس نے دلوں كو بدستور اپنی طرف مجذوب كرركھا ہے۔
رہبر معظم نے اپنے خطاب كے اختتام پر امام خمينی (رہ)كی برسی منعقد كرانے والے عہديداروں اور اداروں كا شكریہ ادا كيا جو اس سلسلے میں سرگرم عمل ہیں۔
اس ملاقات میں امام خمينی(رہ) كی انيسویں برسی كے انتظامی ادارے كے سربراہ محمد علی انصاری نے سياسی ، اقتصادی ، ثقافتی، سماجی اور اخلاقی ميدانوں میں امام خمينی(رہ) كی خلاقيت كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا: امام خمينی (رہ) كی خلاقيت اور مسلمانوں كے لئے ان كی جذابيت كو انقلاب دشمن عناصر اپنے تسلط كو جاری ركھنے كے لئے خطرہ تصور كرتے تھے لہذا مختلف عناوين كے ساتھ ان كا مقابلہ كرنے كی كوشش كرتے تھے ليكن وہ اب تك امام خمينی(رہ) كے افكار ونظريات كو روكنے میں كامياب نہیں ہوسكے ہیں۔ انصاری نے امام خمينی(رہ) كی انسویں برسی كو بڑے اہتمام كے ساتھ منعقد كرانے كے سلسلے میں رپورٹ پيش كی۔
leader.ir