بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمينی (رح) كی سوانح حيات

IQNA

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمينی (رح) كی سوانح حيات

16:03 - June 01, 2008
خبر کا کوڈ: 1657328
جمہوری اسلامی ايران كے بانی، اور رہبر،فقیہ، عارف، امام خمينی تھے، آپ ۳۰ شہريور/۱۲۸۱(۲۰ جمادی الثانی ۱۳۲۰ق /۲۴ستمبر۱۹۰۲م)كو خمين میں پيدا ہوئے۔
۱۴/ خرداد۱۳۶۸ كو تہران میں دل كے ہوسپٹل میں آپ كا انتقال ہوا، آپ كانام روح اللہ مصطفی پسرسيد مصطفی موسوی اور موسوی خمينی كے نام سے مشہورتھے آپ كے والد كاشمار اس زمانے كے علماء میں ہوتاتھا جب امام خمينی پانچ ماہ كے تھے توان كا انتقال ہوگيا، حكومت وقت كے حكام كی حمايت میں وہاں كے خانوں نے ان كوخمينی سے اراك جاتے ہوئے شہيد كردياتھا ان كے رشتہ دار حكم الہی،قصاص جاری كرنے كيلئے تہران(ايران كے پايتخت)گئے اور حكم جاری كرنے پراصرار كياجس سے قاتل كو قتل كردياگيا۔
آپ نے بچپنا اپنی والدہ (بانوہاجر)آية اللہ خوانساری كی پوتی اوراپنی پھوپھی (صاحبہ خانم)كی سرپرستی میں گذاری ليكن پندرہ سال كی عمرمیں والدہ اورپھوپھی دونوں كا انتقال ہوگيا۔
نوجوانی میں ابتدائی دنيوی اوردينی تعليم كا آغازكيا اورحوزہ علمیہ میں متداول علوم جيسے ادبيات عرب،منطق،فقہ اوراصول فقہ حاصل كيا، آپ كے وہ اساتذہ جن سے آپ نے علوم دين حاصل كيامندرجہ ذيل ہیں : (ميرزا محمود افتخار العلماء، حاج ميرزا نجفی خمينی، آية اللہ شيخ علی محمد بروجردی، آية اللہ محمد گلپايگانی، آية اللہ عباس اراكی اورسب سے زيادہ اپنے بڑے بھائی آية اللہ مرتضی پسنديدہ سے علم حاصل كيا) اورسن ۱۲۹۸میں اراك كے حوزہ علمیہ میں داخل ہوئے بہت سارے علوم حوزہ علمیہ اراك میں حاصل كرنے كے بعد آپ حوزہ علمیہ قم كی طرف روانہ ہوئے، حوزہ علمیہ قم میں آپ نے فلسفہ اور اخلاق،آية اللہ محمدعلی شاہ آبادی، آقای سيد ابوالحسن حكيم قزوينی اورحاج ميرزا جواد آقا ملكی تبريزی سے حاصل كيا، علم منقول، فقہ اوراصول فقہ، آية اللہ عبدالكريم حايری يزدی اورآقای ميرسيدعلی كاشانی سے حاصل كيا، آپ اسی زمانے میں آية اللہ عبدالكريم حايری يزدی اورآية اللہ يثربی كے درس فقہ میں شركت كرتے تھے اورفقہ واصول پر مہارت حاصل كركے مجتہد بن چكے تھے۔
۱۳۳۹ق میں جب آية اللہ عبدالكريم حايری كا انتقال ہوگيا تواس وقت امام خمينی كا حوزہ علمیہ كے افاضل اوراساتيد میں شمار ہوتاتھا خصوصا فلسفہ، تہذيب نفس اوراخلاق كے بہترين استادتھے اوربعد میں آپ نے فقہ واصول فقہ كی تدريس میں بھی اپنا لوہامنواليا تھا، آپ كے اسی زمانے میں شاہ كے مخالفين سے تعلقات تھے اور آپ اپنی عمر كے لحاظ سے حكومت وقت سے لڑتے رہے، آپ نے حكومت وقت كے بیٹے رضاخان كے خلاف زبان كھولی، اس كے كالے كرتوتوں كو اجاگركيا اورآية اللہ عبدالكريم حايری كے انتقال كے بعد آية اللہ حسن بروجردی كی مسايل میں مدد فرماتے رہے، آية اللہ حسن بروجردی كے انتقال كے بعد حوزہ علمیہ قم اوردوسرے علماء نے آپ كوآية اللہ العظمی خمينی كے عنوان سے پہچانا۔
امام خمينی نے ۱۳۴۰ ہجری میں صوبائی حكومتوں كی تشكيل اورشاہ كے ذريعہ پيش كئے گئے ۶نكاتی لايحہ عمل كی مخالفت كی، ۱۵/خرداد كو جب حكومت نے لوگوں كاقتل عام كيا توامام خمينی نے حكومت كے خلاف سخت تقرير كی جس میں آپ كو گرفتار كركے عشرت آباد تہران كے ايك تھانہ میں منتقل كردياگياآزادی كے ايكسال بعد پھرآپ نے ”Capitulation “كے خلاف تقريركی،جس كے نتيجے میں آپ كو ۱۳/آبان ۱۳۴۴/میں تركی كی طرف جلاوطن كرديا، كچھ دنوں كے بعد امام خمينی تركی سے اعراق چلے گئے اورتقريبا ۱۵/سال تك عراق میں زندگی گذارتے رہے، آخركار آپ كے بیٹے (آية اللہ سيد مصطفی خمينی)كی حكومت وقت كے ہاتھوں شہادت كے بعد آپ عراق سے پيرس چلے گئے اور ۱۲بہمن ۱۳۵۷ كو شاہ كے فرارہونے كے بعد آپ ايران میں استقلال،آزادی اورجمہوری اسلامی كو ايران كے لوگوں كے لیے بطورہدیہ لے كر واپس آئے اور ۲۲بہمن ۱۳۵۷كو لاكھوں لوگوں كی حمايت میں شہنشاہيت ہميشہ كيلئے ايران سے ختم ہوگئی، پہلی بار ايران میں جمہوری اسلامی حكومت قائم ہوئی اورامام خمينی پوری دنيا كے مسلمانوں كيلئے امام كے عنوان سے پہچانے گئے، امام خمينی كا جمہوری اسلامی ايران كی تاسيس اور انقلاب اسلامی كی ہدايت كے دس سال بعد چودہ مرداد۱۳۶۸كو تہران میں انتقال ہوا۔
نظرات بینندگان
captcha