جيسا كے رسول اكرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) كی رحلت كے بعد اس بات میں اختلاف پيدا ہوگيا تھا كہ منصب خلافت كس كو سنبھالنا چاہیے ليكن اس كے با وجود مسلمان اس بات پر متفق تھےكہ منصب خلافت پر فائز ہونے والے شخص كو عالم وفاضل اور آگاہ ہونا چاہیے اختلاف صرف دو موضوعات میں تھا:
1- چونكہ اسلام كی حكومت قانون كی حكومت ہے لہذا رہبر و زعيم اور حاكم كيلئے قانون كے بارے میں علم و آگاہی ضروری ہے جيسا كے روايات میں بھی وارد ہوا ہے صرف رہبر و حاكم كيلئے ہی نہیں بلكہ تمام افراد كيلئے ضروری ہے كہ وہ جس كام اور مقام پر فائز ہوں اس كے بارے میں علم و آگاہی ركھتے ہوں البتہ حاكم ورہبر كيلئے ضروری ہے كہ وہ علمی ميدان میں سب سے افضل و اعلی ہو ہمارے آئمہ (ع) اپنی امامت كيلئے اسی مطلب كو استدلال كے طور پر پيش كرتے تھے كہ امام كو دوسروں سے افضل ہونا چاہیے شيعہ علماء نے دوسروں پر جو اعتراضات وارد كئے ہیں وہ بھی اسی امر سے متعلق ہیں كہ جب فلاں حكم كے بارے میں خليفہ سے معلوم كيا گيا تو خليفہ اسكا جواب نہ دے سكے پس وہ امامت اور خلافت كے لائق و سزاوار نہیں ہے فلاں كام كو اسلامی احكام كے خلاف انجام ديا لہذا خلافت و امامت كےلائق نہیں ہے۔۔۔(1)
مسلمانوں كی نظر میں رہبر كے لئے قانون سے واقفيت اور عدالت دو بنيادی ركن اور شرائط ہیں اور اسمیں دوسرے امور كا موجود ہونا ضروری نہیں ہے مثلا ملائكہ كے علم كی كيفيت كے بارے میں ، صانع تبارك و تعالی كے علم كے بارے میں كہ وہ كن اوصاف كا حامل ہے ، ايسے علوم كا امامت كے موضوع میں كوئی دخل نہیں ہے چنانچہ اگر كوئی تمام طبيعی علوم كے بارے میں معلومات فراہم كرلے اور طبيعت كی تمام قوتوں كو كشف كرلے يا ميوزك كے بارے میں خوب جان لے پھر بھی اس میں خلافت كے منصب پر فائز ہونےكی صلاحيت و لياقت پيدا نہیں ہوسكتی اور نہ ہی اس كو ان لوگوں پر افضليت اور برتری حاصل ہو سكتی ہے جو اسلام كے قانون كو جانتے ہیں اور عادل ہیں اور حكومتی امور كو سنبھالنے كی صلاحيت ركھتے ہیں
جو چيز خلافت سے متعلق ہے اور رسول اكرم(ص) اور ہمارے آئمہ (ع) كے زمانے میں اسكے بارے میں بحث اور گفتگو ہوتی رہی ہے اور مسلمانوں كے درميان بھی مسلّم امر رہا ہے وہ یہ ہے كہ اوّلا حاكم اور خليفہ كو اسلام كے احكام كے بارے میں معلومات ہونی چاہیے يعنی اسے اسلامی قانون كا ماہر ہونا چاہیے دوسرے یہ كہ اسےعادل ہونا چاہیے اور اعتقادی اور اخلاقی كمال كا حامل ہونا چاہیے۔ عقل كا تقاضا بھی یہی ہے كيونكہ اسلام كی حكومت قانون كی حكومت ہے نہ اس میں جاہ طلبی و خود غرضی اور نہ ہی اشخاص كی عوام پر حكومت كی كوئی گنجائش ہے
جو رہبر اورحاكم قانونی مطالب سے آگاہ نہ ہو وہ حكومت كے لائق وسزاوار نہیں ہوسكتا كيونكہ اگر وہ تقليد كرے گا تواس سےحكومت كی طاقت وقدرت مضمحل اور كمزور ہو جائے گی اور اگر تقليد نہیں كرےگا تو اسلام كے قانون كاحاكم اور مجری نہیں بن سكتا اور یہ بات مسلّم ہے كہ (( الفقہاء حكام علی السلاطين )) " فقہاء سلاطين پر حاكم ہیں " (2) سلاطين اگر اسلام كے تابع ہیں تو انكے ليئے ضروری ہے كہ وہ فقہاء كی اطاعت اور پيروی كریں اور اسلامی قوانين اور احكام كو فقہاء سے معلوم كركے جاری كریں اس صورت میں حقيقی حكام وہی فقہاء ہیں لہذا ضروری ہے كے حاكميت سركاری طور پر فقہاء كے ہاتھ میں رہے نہ كہ ان لوگوں كے ہاتھ میں رہنی چاہيئے جو نادانی اور جہل كی بنا پر فقہاء كی پيروی كرنے پر مجبور ہیں
2- رہبر اور حاكم كو اخلاقی اقدار اور اعتقادی كمال كا حامل اور عادل ہونا چاہیے جو شخص حدود الہی يعنی اسلامی سزاؤوں كوجاری كرے گا اور بيت المال میں دخل اور تصرف كرنے كے امور كو سنبھالے گا اور حكومت كا نظام اپنےہاتھ میں لے گا اورخداوندمتعال اسكواپنے بندوں پرحكومت كا اختيار بخشےگا اسكو گناہكار اور بد كردار نہیں ہونا چاہیے (( و لا ينال عہدی الظالمين )) (3) خداوند ظالم اور گنہكار كو ايسا حق و اختيار عطا نہیں كرتاہے
حاكم اگرعادل نہیں ہوگا تواس صورت میں وہ مسلمانوں كے حقوق ادا كرنے ، ماليات وصول كرنے اور انكو صحيح طريقے سے مصرف كرنے اور قانون كو صحيح طور پر اجراء كرنے میں عدل وانصاف كا لحاظ نہیں ركھےگا اور ممكن ہے وہ اپنے خاندان والوں ، قريبی ساتھيوں اور دوستوں كو معاشرے پر مسلط كردے اور مسلمانوں كے بيت المال كو اپنے ذاتی اغراض و مقاصد كيلئے مصرف كرنے میں مشغول ہوجائے (4)
مرجعيت كی شرط ضروری نہیں ہے :
ميرا ابتدا ہی سے اس بات پر اعتقاد تھا كہ مرجعيت كی شرط ضروری نہیں ہے وہ مجتہدكافی ہےجوعادل ہے اور جسكو ملك كی خبرگان كونسل كی تاييد حاصل ہے عوام نے خبرگان كونسل كے نمائندوں كو اس لئے ووٹ ديا ہے كہ وہ انكی حكومت كيلئے رہبر معين كریں اور جب خبرگان كسی شخص كو رہبری كيلئے معين و منتخب كریں گے تو اسكی رہبری و زعامت عوام كے لئے مورد قبول ہوگی اور اس صورت میں وہ عوام كا منتخب ولی بن جائے گااور اسكا حكم نافذ العمل ہوگا (5)
رہبری كے نمونے
رہبر عدالت میں:
صدر اسلام میں دو ادوار میں دو مرتبہ اسلام كی اصلی حكومت محقق اور قائم ہوئی ہے ايك مرتبہ پيغمبراسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) كے دور میں اوردوسری مرتبہ حضرت علی (علیہ السلام) كے دور میں جب وہ كوفہ میں حاكم تھے ان دو ادوار میں معنوی قدریں حاكم تھیں يعنی عدل و انصاف پر مبنی حكومت بر قرار تھی اور حاكم ايك ذرہ برابر بھی قانون كے خلاف عمل نہیں كرتا تھا ان دو دوروں میں قانون كی حكومت رہی ہے اور شايد اسكے علاوہ ہم كبھی بھی اس طرح كی قانون كی حكومت تلاش نہ كرسكیں گےايسی حكومت جسكا ولی امر(( جسے آج كی اصطلاح میں صدر يا سلطان سے تغبير كرتے ہیں)) قانون كے مقابلے میں معاشرے كی نچلی سطح كے فرد كے مساوی اور برابر ہو صدر اسلام كی حكومت میں ايسا رہا ہے حتی تاريخ میں حضرت علی (علیہ السلام) كا ايك واقعہ بھی موجود ہے : كہ جب حضرت علی (علیہ السلام) حاكم تھے اور انكی حكومت حجاز سے ليكر مصر اور ايران تك پھيلی ہوئی تھی اور گورنر و قضات سبھی ان كی طرف سے منصوب اورمعين ہوتے تھے ايك دفعہ ايك يمنی نے حضرت علی (علیہ السلام) كے خلاف مقدمہ دائر كيا وہ يمنی بھی آپكی حكومت كا ايك فرد تھا قاضی نے حضرت علی (علیہ السلام) كو طلب كيا قاضی بھی وہ تھا كہ جسكوخود حضرت علی (علیہ السلام) نے منصوب كيا تھا۔ حضرت علی (علیہ السلام) قاضی كے پاس پہنچے تو قاضی حضرت علی (علیہ السلام) كے احترام میں كھڑا ہونا چاہتاتھا امام (علیہ السلام) نے فرمايا كہ قضاوت میں تم ايك فريق كا احترام مت كرو میں اور ميرا فريق دونوں مقدمہ میں برابر و مساوی ہیں اس كے بعد جب قاضی نے حضرت علی (علیہ السلام) كے خلاف حكم صادر كيا تو حضرت علی (علیہ السلام) نے خندہ پيشانی كے ساتھ اس كا حكم قبول كر ليا
یہ ايسی حكومت ہے كہ جسكے قانون كے مقابلے میں سبھی مساوی اور برابر ہیں كيونكہ اسلام كا قانون الہی قانون ہے اور خداوند متعال كے سامنے سبھی مساوی اور برابر ہیں چاہے حاكم ہو يا محكوم چاہے پيغمبر (ص) ہو يا امام (ع) اور چاہے عوام(6)
رہبر عوام كے درميان:
اسلامی حاكم اور راہنما دوسرے حكام " جيسے سلاطين اور جمہوری صدور " كے مانند نہیں ہے اسلام كا حاكم وہ حاكم ہے جو مدينہ كی اس چھوٹی سی مسجد میں تشريف لاتے اور عوام كی گفتگو سنتےتھے اور وہ لوگ جن كے ہاتھوں میں مملكت كے امور تھے وہ بھی عوام كے تمام طبقات كی طرح مسجد میں جمع ہوتے تھے اور انكا اجتماع ايسا ہوتاتھا جسمیں اگر كوئی غير آجاتاتھا تو وہ نہیں پہچان سكتا تھا كہ انمیں صاحب منصب اور صدر مملكت كون ہے اور معمولی لوگ كون ہیں لباس عام لوگوں جيسا ، طرز زندگی عوام جيسی ، عدل و انصاف كو برقرار كرنے كيلئے یہ طرز عمل تھا كہ اگر ايك معمولی شخص حكومت كے پہلے درجے كے شخص كے خلاف عدالت میں مقدمہ دائركرے تو وہ قاضی كے پاس پہنچ جاتے تھے اورقاضی اگرحكومت كے پہلے درجے كے شخص كو حاضر كرتا تھا اور وہ بھی حاضر ہوجاتے تھے(7)
ولايت فقیہ ڈكٹیٹری كے برعكس ہے :
اسلام میں قانون حكومت كرتاہے پيغمبر اكرم (ص) بھی الہی قانون كے تابع تھے آنحضور قانون كےمطابق عمل كرتے تھے خداوند تبارك و تعالی كا ارشاد ہے جو میں چاہتاہوں اگر اسكے خلاف تم عمل كرو گے تو میں تمہارا مؤاخذہ كروں گااورتمہاری شہ رگ (( وتينت )) كاٹ دوں گا(8) اگر پيغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) (معاذ اللہ) ايك ڈكٹیٹر شخص ہوتے يا ايك ايسے شخص ہوتے كہ جس سے لوگ ڈرتے كہ اگر وہ كبھی موقع پاكر مكمل قدرت حاصل كرلیں گے تو ڈكٹیٹری كریں گے نہ كل پيغمبر (ص) ڈكٹیٹر تھے اور نہ آج فقیہ ڈكٹیٹر ہو سكتاہے (9)
فقیہ میں استبداد نہیں پايا جاتاہے وہ فقیہ جو ان اوصاف كا حامل ہوتا ہے وہ عادل ہوتا ہے ايسی عدالت جو سماجی عدالت كی مظہر ، ايسی عدالت جسمیں جھوٹ كا ايك كلمہ اسكو عدالت سے ساقط كردے گا ، نامحرم پر ايك نظر اس كو عدالت سے گرا دےگی ايك ايسا انسان نہ غلط عمل كرسكتا ہےاورنہ كبھی غلط كرتا ہے (10)
رہبری كے اختيارات اور حكومت:
اگر ايك لائق انسان جسمیں یہ دو خصلتیں پائی جاتی ہیں حكومت تشكيل دينے كيلئے كمربستہ ہوجائے اور حكومت تشكيل ديدے تو معاشرے كے امور كو چلانے كيلئے اس كو بھی وہی ولايت حاصل ہے جو ولايت رسول اكرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) كو حاصل تھی اور تمام لوگوں پر واجب ہے كہ وہ اسكے حكم كی اطاعت كریں اور اس سلسلے میں یہ وہم غلط ہے كہ معاشرتی اور سماجی امور میں رسول اكرم (ص) كے اختيارات حضرت علی (علیہ السلام) كےاختيارات سے زيادہ تھے اور حضرت علی (علیہ السلام) كے اختيارات ولی فقیہ كے اختيارات سے زيادہ ہیں البتہ رسول اكرم (ص) كے فضائل تمام عالم پر محيط ہیں اور انكے بعد حضرت علی (علیہ السلام) كے فضائل اور كمالات سب سے زيادہ ہیں ليكن معنوی فضائل و كمالات كا زيادہ ہونا حكومتی اختيارات میں اضافے كا سبب نہیں بن سكتاہے كيونكہ فوج ، سپاہ اور رضاكاردستوں كوتيار كرنے يا گورنروں كو مقرر كرنے يا ماليات وصول كرنے اور اسكو مسلمانوں كے مصالح میں مصرف كرنے میں جواختيارات رسول اكرم (ص)يا دوسرے آئمہ (علیہم السلام) كو حاصل تھے خداوند متعال نے انھیں اختيارات كو موجودہ حكومت كيلئے بھی قرار ديا ہے البتہ كوئی شخص معين نہیں ہے بلكہ عنوان ((عالم عادل)) ہے
جب ہم كہتے ہیں كہ وہ ولايت جو رسول اكرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) يا دوسرے آئمہ (ع) كے پاس تھی وہ غيبت كے دور میں فقیہ عادل كے پاس ہے اور اس سلسلے میں كسی كو اس وہم اور شك میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے كہ فقہاء كا مقام بھی وہی ہے جو رسول اكرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) يا آئمہ معصومين (علیہم السلام) كا ہے كيونكہ یہاں پر بحث مقام و منزلت سے نہیں ہے بلكہ بحث ذمہ داری اور وظائف سے متعلق ہے ولايت يعنی حكومت ، ملك كے نظم و نسق كو چلانا ، شريعت كے قوانين كا اجراء كرنا جو ايك سنگين اور اہم ذمہ داری ہے نہ یہ كہ اس سےكسی كيلئے غير معمولی شان و منزلت پيدا ہوجاتی ہے اور اسكو معمولی حد سے بڑھا كر كسی اونچے مقام پر پہنچاديتی ہے دوسرے الفاظ میں حكومت يعنی ملك میں نظم و نسق كو برقرار كرنا اور بہت سے افراد اس كو امتياز تصور كرتے ہیں جبكہ یہ كوئی امتياز نہیں بلكہ ايك سخت و سنگين اور دشوار ذمہ داری ہے
ايك اہم امر جسكی ولايت عہديدار ہے حدود الہی كا جاری كرنا ہے ( يعنی اسلام كے جزائی قوانين كا اجراء ) كيا حدود كے اجراء میں پيغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) امام(علیہ السلام) اور فقیہ كے درميان كوئی امتياز ہے؟ يا چونكہ فقیہ كا رتبہ بہت ہی كم ہے لہذا اسكو كمتر سزا تجويز كرنا چاہیے ؟ زانی كی حد100 كوڑے ہے اگر رسول خدا (ص) یہ حد جاری كریں گے تو150 كوڑے ماریں گے اور حضرت علی (علیہ السلام)جاری كریں گے تو 100 كوڑے ماریں گے اور فقیہ جاری كرےگا تو50 كوڑے مارے گا ؟يا یہ كہ حاكم اجرائی امور كا ذمہ داراور عہديدار ہے اور اسے خداوند متعال كے حكم كےمطابق حد جاری كرنا چاہیے، چاہیے حاكم رسول خدا (ص) ہوں ، حضرت علی (علیہ السلام) ہوں يا حضرت علی (ع) كے بصرہ يا كوفہ میں نمايندے يا قاضی ہوں يا موجودہ دور میں فقیہ ۔
رسول اكرم (ص)اور حضرت علی (علیہ السلام) كے اہم وظائف میں سے ماليات ،خمس و زكوۃ ، جزیہ اور خراجیہ زمين كا ٹيكس وصول كرنا ہے رسول خدا (ص) زكوۃ كتنی وصول كریں گے كيا ايك جگہ سے ايك دسواں حصہ ( 10/1 ) اور دوسری جگہ سے ايك بيسواں حصہ (20/1) وصول كریں گے ؟
حضرت علی (علیہ السلام) خليفہ ہوگئے تووہ كيا كریں گے ؟ آپ موجودہ دور میں فقیہ اور نافذ الكلمہ ہوگئے تو آپ كيا كریں گے ؟ كيا ان امور میں رسول اكرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) كی ولايت كا حضرت علی (علیہ السلام) كی ولايت او رعادل فقیہ كی ولايت كے درميان كوئی فرق ہے ؟
خداوند متعال نے رسول اكرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) كو تمام مسلمانوں كا ولی قرار ديا ہے اور جب تك وہ حضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) موجود ہیں انكی ولايت حضرت علی (علیہ السلام) پر بھی جاری ہے آنحضور(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) كی رحلت كے بعد امام (ع) كی ولايت تمام مسلمانوں حتی اپنے بعد والے امام (ع)پر بھی نافذ ہے يعنی اسكے حكومتی احكامات اور اوامر سب پر نافذ و جاری ہیں اور وہ گورنروں كو منصوب اور معزول كرسكتاہے
جيسا كے پيغمبر اسلام (ص) احكام الہی كے اجراء كرنے اور اسلام كے نظم و نسق كو برقرار ركھنے پر مامور تھے اور خداوند متعال نے انكو مسلمانوں كا ہادی ، ولی اور راہنما قرار ديا اور انكی اطاعت كو واجب قرار ديا ہے اسی طرح فقہاء عادل بھی حاكم وولی و راہنما ہیں اور معاشرے میں احكام كے اجراء كرنےاور اسلام كے اجتماعی نظام كو برقرار كرنے اور چلانے پر مامور ہیں
حكومت احكام اوّلیہ میں سے ہے اورفرعی احكام پر مقدم ہے :
اگر حكومت كے اختيارات فرعی احكام كے دائرے میں ہوں تو نبی اكرم (ص) كو پيش كی جانی والی حكومت الہیہ اور ولايت مطلقہ بے معنی ہو كر رہ جائے گی لہذا حكومت جو رسول اكرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) كی ولايت مطلقہ كا ايك شعبہ ہے اسلام كے احكام اوّلیہ میں سے ہے اور وہ تمام فرعی احكام حتی نماز ، روزہ اور حج پر بھی مقدم ہے حاكم ايسی مسجد يا گھر كو منہدم كرنے كا حكم دے سكتا ہے جو سڑك كے راستے میں واقع ہے اور گھر كی قيمت صاحب گھر كو واپس كرسكتا ہے حاكم ضرورت كے موقع پر مسجد كو بند كرسكتا ہے ايسی مسجد كو خراب كرسكتا ہے جو ضرر و نقصان كا سبب ہو حكومت ايسی شرعی قرار دادوں كو يك طرفہ طور پر باطل كرسكتی ہے جو عوام سے طے كی ہیں اور جو ملك كے مصالح اور اسلام كے خلاف ہوں اور ہر اس امر پر پابندی عائد كرسكتی ہے جو مصالح اسلام كے خلاف ہو چاہیے وہ امر عبادتی يا غير عبادتی ہو حكومت حج جيسی اہم عبادت پر جانے سے روك سكتی ہے اگر وہ اسلامی ملك كے مصالح كے خلاف ہو(12)
ولايت اور محدود مالكيت كا حق:
اسلام میں مشروع اموال كيلئے بعض حدود ہیں اورايك امر جو ولايت فقیہ سے متعلق ہے وہ یہی حدود اور تحديد كا امر ہے اور جسے ہمارے روشن فكر افراد درك كرنے سے قاصر ہیں اور نہیں سمجھتےكہ ولايت فقیہ كيا ہے ،
اس كے باوجود كہ مالكيت كو شارع مقدس نے محترم قرار ديا ہے ليكن ولی فقیہ اگر اسی محدود مالكيت كو اسلام و مسلمانوں كے مصالح كے خلاف تشخيص دےگاتو وہ اسی جائز اور مشروع مالكيت كو ايك معين حد تك محدود كرسكتا ہے اور وہ فقیہ كے حكم سے
مصادرہ اورضبط كرلی جائےگی (13)
1- بحار الانوار، ج 25، ص116؛ نہج البلاغہ ص 588، خطبہ172؛الاحتجاج،ج1ص229
2- مستدرك الوسائل ج17ص321((كتاب القضاۃ))،((ابواب صفات قاضی))، باب 11، حديث33
3- سورہ بقرہ/124
4- ولايت فقیہ- 61-58
5- صحيفہ نورجلد21، ص129_تاريخ 9/2/68 شمسی
6- صحيفہ نورجلد10،ص169_168 تاريخ17/8/58 شمسی
7- صحيفہ نورجلد3، ص84 تاريخ18/8/57 شمسی
8- اشارہ بہ آيات مباركہ:44_46 سورہ الحاقہ میں ارشاد ہے(( و لو تقوّل علينا بعض الاقاويل لاخذنا منہ باليمين ثم لقطعنا منہ الوتين))(اگر محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) جھوٹی باتیں ہماری نسبت ديتے تو ہم ضرور اسكو اپنے قہر میں گرفتاركرليتے اور اسكی شاہ رگ كو كاٹ ديتے)
9- صحيفہ نورجلد10ص29،تاريخ30/8/58 شمسی
10- صحيفہ نورجلد11ص133، تاريخ 7/10/58 شمسی
11- ولايت فقیہ، ص93_92
12- صحيفہ نورجلدج20 ص 170 ، تاريخ 16/10/66 شمسی
13- صحيفہ نورجلد10 ص138، تاريخ 14/8/58 شمسی