تفسير"الميزان" میں علامہ طباطبائی﴿قدس سرہ﴾ كا "نظریہ عصمت"

IQNA

تفسير"الميزان" میں علامہ طباطبائی﴿قدس سرہ﴾ كا "نظریہ عصمت"

16:27 - June 02, 2008
خبر کا کوڈ: 1657513
عصمت كا لغوی معنی: عصمت دست بند كی مانند ايك چيز ہے جسے عورتیں اپنے ہاتھوں میں پہنتی ہیں اور ہاتھ كے اُس مقام كو جہاں یہ دست بند باندھا جاتا ہے اسے ’’معصم‘‘ كہا جاتا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحيم
تحقيق و پيشكش: طاہرعباس

عصمت كا لغوی معنی:
راغب اصفہانی ’’عصمت ‘‘كا معنی كرتے ہوئے كہتے ہیں :
عصم كا معنی روكنا ہے اور اعتصام انسان كی اُس حالت كو كہا جاتا ہے كہ جسے طلب حفاظت كے وقت ظاہر كرتا ہے پھر راغب اصفہانی اس كی مزيد وضاحت كرتے ہوئے یہاں تك كہتے ہیں كہ:
عصام وہ چيز ہے كہ جس كے ذريعہ كسی چيز كو باندھا جاتا ہے اور (اسطرح) اُس كی حفاظت كی جاتی ہے ۔ انبياء میں پائی جانی والی عصمت( سے مراد) معصيت سے اُن كی حفاظت كرنے كے معنی میں ہے اورخدا وند كريم مختلف وسائل كے ذريعہ ان كی حفاظت كرتا ہے:
۱) پاك اور صاف دل كے ذريعہ جو ايك ايسا گوہر ہے كہ خدا نے اس كرامت كے ساتھ صرف انبياء كو خاص كيا ہے،
۲)جسمانی اور نفسانی فضيلتوں كی نعمت كے ذريعہ ،
۳)ثابت قدمی اور نصرت كے ذريعہ نيزحفظ قلوب ،تسكين بخشی اور توفيقات كے ذريعہ۔
جيسا كہ ارشاد خدا وندی ہے كہ ’’واللہ يعصمك من الناس‘‘ مائدہ ۶۷۔
عصمت دست بند كی مانند ايك چيز ہے جسے عورتیں اپنے ہاتھوں میں پہنتی ہیں اور ہاتھ كے اُس مقام كو جہاں یہ دست بند باندھا جاتا ہے اسے ’’معصم‘‘ كہا جاتا ہے۔بعض نے جانور كے سامنے والے پاؤں كی سفيدی كو عصمت( دست بند )كے ساتھ مشابہت كی وجہ سے عصمت كہا ہے۔یہ تشبیہ حيوان كے ايك پاؤں كی سفيدی كوحيوان كے ايك بندھے ہوئے پاؤں كے ساتھ تشبیہ دينے كے باب سے ہے۔ايسا كوّا جس كی گردن كے گرد سفيد دھاری ہو اسے اسی قياس پر’’غراب اعصم ‘‘ كہا جاتا ہے۔(مفردات راغب اصفہانی ص۳۳۶،۳۳۷)
راغب اصفہانی نے جو عصمت كا معنی بيان كيا ہے اگرچہ وہ درست ہے ليكن واللہ..... مائدہ ۶۷ویں آيت كے ساتھ اس كی مثال دينا درست نہیں ہے كيونكہ مذكورہ آيت عصمتِ انبياء ع كے متعلق نہیں ہے چونكہ آيت میں’’ عصمت ‘‘ رسول اكرم ص كے نفس كو لوگوں كی جانب سے آئندہ پيش آنے والے شر سے محفوظ ركھنے كے معنی میں ہے۔اس لئے عصمتِ انبياء ع كے معنی كيلئے اس آيت كی بجائے دوسری آيات كے ساتھ مثال ديتے توبہتر تھا۔ وہ معنی كہ جسے انہوں نے ذكر كيا ہے اگرہم قرآن سے اس كی تطبيق كرنا چاہیں تواس آيت
« و ما يضرونك من شی و انزل اللہ عليك الكتاب و الحكمہ و علمك ما لم تكن تعلم وكا ن فضل اللہ عليك عظيما »
سوره نساء 11۳
(ترجمہ: اور (یہ) آپ ص كو كوئی تكليف نہیں پہنچا سكتے اور اللہ نے آپ ص پر كتاب اور حكمت نازل كی ہے اور آپ ص كو ان تمام باتوں كا علم دے ديا ہے جن كا علم نہ تھا اور اللہ كا آپ ص پر بڑا احسان ہے)
كے ذريعہ بہتر تطبيق ہو سكتی ہے۔
قرآن كی روشنی میں عصمت
سورۃ نساء كی ۱۰۵ سے لے كر ۱۲۶ تك كی آيات میں دقت اور تدبر سے اس بات كا استفادہ ہوتا ہے كہ ان آيات كا سياق(مضمون) ايك ہے اور ان میں ايك ہی موضوع كے متعلق بات كی گئی ہے اور وہ فيصلہ كرنے میں عدل كی نصيحت كی گئی هے۔ قاضی كو فيصلہ كرنے میں فريقوں میں سے كسی كی ايك كی طرف ميلان پيدا كرنے ، جھوٹا اور سچا(فريق) جو كوئی بھی ہو كسی بھی حال میں ہو حاكم كو حكم كے صادر كرنے میں جھوٹوں كی طرفداری اورصاحبان حق كے حق میں ظلم كرنے سے نہی كی گئی ہے ۔
یہ آيات ايك واقعہ كے وقت نازل ہوئیں ۔ ظاہراً وہ واقعہ جس كی طرف
«من يكسب خطيئۃ او اثماً ثم يرم بہ بريئاً فقد احتمل بہتاناً واثماً مبينا ً »۱۱۲ ،النساء
(ترجمہ: اور جو شخص بھی كوئی غلطی يا گناہ كر كے دوسرے بے گناہ كے سر ڈال ديتا ہے وہ بہت بڑے بہتان اور كھلے گناہ كا ذمہ دار ہوتا ہے)
ان آيات میں اشارہ كيا گيا ہے وہ یہ ہے كہ ابی طعمہ بن ابيرق نے چوری كی جب اس كی اطلاع نبی اكرم ص كو پہنچی تو اس نے چوری كا الزام ايك دوسرے شخص پر لگا ديا۔ حقيقی چور كے رشتہ دار مصر تھے كہ آپ ص ان كے حق میں فيصلہ كریں تو اسوقت یہ آيات نازل ہوئیں ۔ان آيات میں رسول اكرم ص كے حجت خدا اور معصوم ہونے كو بيان كيا گيا ہے۔ خاص طور پر۱۱۳ ویں آيت آپ ص كے معصوم ہونے كو بيان كرتی ہے
«لو لا فضل اللہ عليك ورحمتہ لہمّت طائفۃ منہم ان يضلّوك و ما يضلون الا انفسہم و ما يضرونك من شی و انزل اللہ عليك الكتاب و الحكمہ و علمك ما لم تكن تعلم وكا ن فضل اللہ عليك عظيماً»
(ترجمہ: اگر آپ ص پر فضل خدا اور رحمت پروردگار كا سایہ نہ ہوتا تو ان كی ايك جماعت نے آپ ص كو بہكانے كا ارادہ كر ليا تھا اور یہ اپنےعلاوہ كسی كو گمراہ نہیں كر سكتے اور آپ ص كو كوئی تكليف نہیں پہنچا سكتے اور اللہ نے آپ ص پر كتاب اور حكمت نازل كی ہے اور ان تمام باتوں كا علم دے ديا ہے جن كا علم نہ تھا اور آپ ص پر خدا كا بہت بڑا احسان فضل ہے )
« لهمت طائفۃ منہم ان يضلوك»(ترجمه: ان كی ايك جماعت نے آپ ص كو بہكانے كا ارادہ كر ليا تھا) اس جماعت سے كون لوگ مراد ہیں ؟ اس آيت كا پہلی آيا ت كے ساتھ ربط اس بات پر دلالت كرتا ہے كہ اس سے مراد خيانت كارلوگون كی وه جماعت ہے جس كا تذكرہ آيات كے شروع میں آيا ہے اور وہ چاہتے تھے كہ آپ ص كو اس بات پر راضی كریں كہ آپ ص ان سے دفاع كریں ۔
« و ما يضلون الا انفسہم»( ترجمه:اور یہ اپنےعلاوہ كسی كو گمراہ نہیں كر سكتے )، اضلال سے كيا مراد ہے؟ آيت كا یہ حصہ ’’و ما يضرونك من شی‘‘ (ا ور آپ ص كو كوئی تكليف نہیں پہنچا سكتے) اس بات پر قرينہ ہے كہ وہ ايك قسم كی گمراہی تھی جس كا انہوں نے رسول اكرم ص كی نسبت ارادہ كيا تھا ليكن یہ گمراہی آپ ص كو كسی قسم كا ضرر نہیں پہنچا سكتی بلكہ وہ گمراہی ان كے نفسوں سی ہی تجاوز نہیں كر سكتی ۔
«و ما يضرونك من شی و انزل اللہ عليك الكتاب و الحكمۃ......»آيت كے اس حصہ میں لوگوں كی طرف سے نبی اكرم ص كو ہر قسم كے نقصان پہنچائے جانے كی نفی كی گئی ہے ليكن آيت كے باہمی ربط سے یہ ظاہر ہوتا ہے كہ آيت كی عموميت كو« و انزل اللہ عليك الكتاب و الحكمۃ و.....» كے ساتھ مشروط كيا گيا ہے اور یہ جملہ رسول اكرم ص كوضرر نہ پہنچنے كی سببيت كو بيان كر رہا ہے ۔ یہ اس صورت میں درست ہے كہ جب اس جملہ كو’’ يضرونك‘‘ كی ’’ك‘‘ كی ضمير سے حال قرار دیں اور علم نحو كے علماء كے اس قاعدے كہ جملہ حالیہ جب فعل ماضی سے شروع ہو تو معمولاًجملہ لفظ« قد» سے شروع ہونا چاہئے سے صرف نظر كریں۔ اس صورت میں كلام لوگوں كی جانب سے نبی اكرم ص كو علمی اور عملی ہر قسم كے ضرر پہنچائے جانے كی نفی كے معنی میں ہوگی۔
«و انزل اللہ عليك الكتاب و الحكمہ و علمك ما لم تكن تعلم وكا ن فضل اللہ عليك عظيما» جيسا كہ ہم نے اشارہ كيا ہے كہ آيت كا یہ حصہ سببيت كو بيان كر رہا ہے اورمقامِ تعليل میں ہے۔ یہ جملہ ’’ و ما يضرونك من شی‘‘ كی تعليل بيان كر رہا ہے يا اس مكمل جملہ ’’ و ما يضلون الا انفسہم و ما يضرونك من شی ‘‘كی سببيت كو بيان كر رہا ہے- بہر حال جو بھی ہوآيت كا یہ حصه اس بات كو سمجھا رها ہے كہ لوگوں كا آپ ص كو گمراہ نہ كر سكنے كاسبب يا آپ ص كو ضرر نہ پہنچاسكنے كا سبب یہی انزال اور تعليم حكمت ہے اور یہی عصمت كا ملاك اور معيار ہے۔
حقيقتِ عصمت
آيت كے ظاہر سے يوں سمجھ میں آتا ہے كہ عصمت ايك قسم كا علم ہے جس كی بدولت معصوم انسان گناہ اور خطا كا مرتكب نہیں ہوتا دوسرے لفظوں میں يوں كہا جائے كہ علم ضلالت كے سامنے ايك سپر ہے۔جيسا كہ شجاعت ،عفت اور سخاوت يا دوسری اخلاقی صفات ايك قسم كی علمی صورتیں ہیں جو انسان كے اندرراسخ ہوتی ہیں اور انسان میں ان كے آثار ظاہر ہونے كا سبب بنتی ہیں اورانسان میں پائی جانے والیں يه اخلاقی صفات ، مخالف يعنی بزدلی اور بخل جيسی بری صفات كے ظاہر ہونے میں ركاوٹ بنتی ہیں۔
سوال :اگر علم نافع اور حكمت بالغہ ہی صاحب علم كو صفات رذيلہ كے متصف ہونے سے روكتی ہے توتمام علماء كو ايسا ہی (معصوم) ہونا چاہیے جبكہ ايسا نہیں ہے۔ اس كی وجہ كيا ہے؟
جواب:درست ہے كہ علم نافع اور حكمت بالغہ یہ اثر ركھتا ہے جيسا كہ ہم اہل دين اور اہل تقوی افراد میں اس كو ديكھتے ہیں ليكن اس علم وحكمت كی سببيت اس عالم مادی كے دوسرے اسباب كی مانند اكثروبيشتر ہوتی ہے لہذا اس كی سببيت میں ہميشگی اور دوام نہیں پايا جاتا يعنی عام طور پر اس علم كے ہوتے ہوئے اس كی ضدظاہر نہیں ہوتی ليكن بعض اوقات اُس كی مخالف صفت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ كسی بھی صاحب كمال كو آپ ص ہميشہ اس كمال سے متصف نہ ديكھیں گے بلكہ وہ كسی نہ كسی وقت ضروراس كی ضد سے متصف ہو جا تا ہے یہ اس بات پرگواہ ہے كہ كمال میں دوام اور ہميشگی نہیں پائی جاتی بلكہ جس قدر بھی اُس كا كمال قوی ہوجائے پھر بھی اِس كمال میں اُس كی ضد كے سامنے سپر اورركاوٹ بننے كی يقينی اور دائمی صلاحيت نہیں ہوتی ۔ یہ تمام اسباب میں جاری ايك سنت ہے۔
علم كے باوجود انسان كيوں معصوم نہیں ؟
انسان میں پائے جانے والے كمالات كے دائمی نہ ہونے كی وجہ یہ ہے كہ انسان میں مختلف قسم كے قوای شعور پائے جاتے ہیں جن میں سے بعض قوای دوسرے بعض قوای سے غفلت كا سبب بنتے ہیں- اگر وہ غفلت كا سبب نہیں بنتے تو كم سے كم بعض قوای كی طرف انكی نسبت ضعيف ہو جاتی ہے مثلاًكسی كے اندر تقوی كا ملكہ پايا جاتاہے جب تك وہ اپنےاس ملكہ كی جانب متوجہ ہو گا وہ كبھی بھی شہوت پرستی ا ور فعل حرام كی طرف توجہ نہیں كرے گا بلكہ وہ اپنےتقوی پر قائم رہے گا ليكن جب آتش شہوت پرستی اس كے نفس پر غلبہ پا جائيگی تو اس كی وجہ سے يا تو وہ اپنےملكہِ تقوی كی جانب متوجہ نہیں ہوگا يا كم از كم تقوی كی جانب اس كی توجہ كمزور پڑجائيگی اور واضح سی بات ہے كہ ايسی صورت میںجن كاموں كو اسے انجام نہیں دينا چاہیے وہ انہیں بجا لائے گا ۔اگر غفلت كار فرما نہ ہو تی تو اس قوای شعور كی سببيت باقی رہتی اور انسان كسی وقت بھی آپ صنی راہ سے منحرف نہ ہوتا پس ہم جو كچھ بھی خلافِ ملكہ ديكھتے ہیں اس كاسبب اورعلت اسباب كے درميان كشمكش كا نتيجہ ہے جس كی وجہ سے بعض قوای دوسرے قوای پر غلبہ پا ليتے ہیں۔
سبب غير معمولی اور عطیہ الہی
یہاں یہ بات روشن ہو گئی كہ وہ قوت جسے عصمت كہا جاتا ہے وہ ايك معمولی علمی سبب نہیں بلكہ ايك ايسا علمی اور شعوری سبب ہے كہ كسی بھی حال میں كوئی دوسرا سبب اس پر غلبہ حاصل نہیں كر سكتا كيونكہ عصمت اگر دوسرے معمولی شعوری اسباب كی مانند ہوتی تويقيناًعصمت كے خلاف كوئی نہ كوئی عمل انجام پاتا پس معلوم ہوا كہ عصمت عام طور پر رائج دوسرے علوم و ادراكات كی مانند نہیں كہ جنہیں كوشش اور جدو جهد كے ذريعہ حاصل كيا جاسكے۔
خدا وند كريم نے رسول اكرم ص كو خاص طور پو خطاب كرتے ہوئے
«و انزل اللہ عليك الكتاب و الحكمۃ و.....»
كہا - یہ ايك مخصوص قسم كاخطاب ہے جس كی حقيقت سے ہم آشنا نہیں كيونكہ علم و شعور كی اس صنف سے ہمیں كوئی آگاہی نہیں ہے۔ اس كے متعلق قرآن پاك كی ان آيات
«قل من كان عدوا ًلجبريل فانہ نزّلہ علی قلبك »۹۷ البقرہ
(ترجمہ: اے رسول ! كہہ ديجئے كہ جو شخص بھی جبرائيل كا دشمن ہے اسے معلوم ہونا چاہئے كہ جبرائيل نے آپ ص كے دل پر قرآن حكم خدا سے اتارا ہے)
اور اس
«نزل بہ الروح الامين، علی قلبك لتكون من المنذرين، بلسا ن عربی مبين» 193 194 195 الشعراء
(ترجمہ:اسے جبرائيل لے كر نازل ہوئے ہیں، یہ آپ ص كے قلب پر نازل ہوا ہے تا كہ آپ ص لوگوں كو عذاب الہی سے ڈرائیں ،یہ واضح عربی زبان میں ہے۔)
سے ہمیں صرف اس قدر آگاہی حاصل ہوتی ہے كہ رسول اكرم ص پر جو كچھ بھی نازل ہوا وہ ايك قسم كا علم تھا۔
يا ان آيات
«شرّع لكم من الدين ما وصی بہ نوحاً و الذی اوحينا اليك وما وصينا بہ ابراہيم و موسی و عيسی»۱۳ الشوری
(ترجمہ:اس نے تمہارے لئے دين میںوہ راستہ مقرر كيا ہے جس كی نصيحت نوح ع كو كی ہے اور جس كی وحی پيغمبر تمہاری طرف بھی كی ہے اور جس كی نصيحت ابراہيم ع،موسی ع اور عيسی ع كو بھی كی ہے)
«انا اوحينا اليك كما اوحينا الی نوح و النبيين من بعد ہ » ۱۶۳النساء
(ترجمہ:ہم نے آپ ص كی طرف اسی طرح وحی نازل كی ہے جس طرح نوح اور ان كے بعد كے انبياء كی طرف وحی كی تھی)
«ان اتبع الا ما يوحی الی»۵۰ الانعام
(ترجمہ: ہم تو صرف وحی پروردگار كا اتباع كرتے ہیں)
«انّما اتبع ما يوحی الیّ»۲۰۳الاعراف
(ترجمہ: میں تو صرف وحی پروردگا كا اتباع كرتا ہوں)
سے یہ جہت ظاہر ہوتی ہے كہ آپ ص پر نازل ہونے والی شی وحی تھی۔
ان مختلف آيات سے یہ استفادہ ہوتا ہے كہ انزال سے وحی مراد ہے اور نبی اكرم كے لئے وحیِ كتاب اور حكمت تعليم الہی تھی ليكن «علمك ما لم تكن تعلم »میں صرف وحی كتاب اور حكمت كا علم مراد نہیں ہے چونكہ آيت اختلاف كو دور كرنے كے لئے رسول اكرم ص صلی الله عليه و سلم كے سامنے پيش ہونے والے واقعات میں انكی آپ صنی خاص رائے سے فيصلہ كرنے كے متعلق ہے اور یہ واضح ہے كہ یہ علم يعنی رائے اور خاص نظریہ كتاب اور حكمت كے علم كے علاوہ كوئی اور چيز ہے اگرچہ وہ مخصوص علم ان دونوں (كتاب اور حكمت) پر موقوف ہے۔
اقسامِ علم
پس آيت كے اس حصہ« و انزل اللہ عليك الكتاب و الحكمہ وعلمك ما لم تكن تعلم» میں نازل كرنے اور تعليم دينے سے دو قسم كے علم مراد ہیں:
۱) ايك وہ علم ہے كہ جسے وحی اور حضرت جبرائيل كے توسط سے آنحضرت كو تعليم ديا گيا۔
۲) دوسرا وہ علم ہے كہ جسے فرشتہِ وحی كے بغير القاء قلب (خدا كا كسی چيز كو دل میں ڈال دينا)اورالہامِ الہی كے ذريعہ آنحضرت كو تعليم ديا گيا ۔
علم نبی كے بارے میں آنے والیں روايات ان دونوں قسموں كی تائيد كرتی ہیں۔
اس بنا پر«علمك ما لم تكن تعلم» سے مراد یہ ہے كہ خدا نے آپ ص كو ايسے علم سے نوازا كہ اگر آپ ص كو یہ عطا نہ كيا جاتا تو كوشش اور جدوجہد كے ذريعہ انسان كو حاصل ہونے والے عادی علوم آ پ صكے لئے كافی نہیں تھے۔
اب تك ہم نے جو كچھ بيان كيا اس سے واضح ہوا كہ یہ عطیہ الہی كہ جس كا نام ہم نے عصمت ركھا ہے وہ علم وشعور كی ايك ايسی قسم ہے جو تمام علوم سے مختلف ہے اور دوسرے قوای شعوریہ اس پرغالب نہیں آ سكتے بلكہ علم كی یہ قسم ہميشہ ان تما م قوای پر غالب رہتی ہے یہی وجہ ہے كہ یہ عطیہ الہی اپنے حامل ا ورصاحب كوہميشہ خطا ، ضلالت اورگمراہی سے محفوظ ركھتا ہے ۔ روايات میں بھی آيا ہے كہ نبی ص اور آئمہ ع كے لئے روح القدس كے نام كی ايك روح ہے جو انكی تقويت كرتی ہے اور انہیں معصيت اور خطا سے بچا ئے ركھتی ہے اور اس كی جانب قرآن پاك میں سورہ شوری كی ۵۲ ویں آيت
« وكذلك اوحينا اليك روحا ًمن امرِنا ما كنتَ تدری ما الكتاب ولا الايمان ولكن جعلناہ نوراًنہتدی بہ من نشاء من عبادنا»۵۲ الشوری
(ترجمہ: اوراسی طرح ہم نے آپ ص كی طرف روح (قرآن ) كی وحی كی ہے آپ ص كو معلوم نہ تھا كتاب كيا ہے اور ايمان كن چيزوں كا نام ہے ليكن ہم نے اسے ايك نور قرار ديا ہے جس كے ذريعہ اپنےبندوں میں سے جسے چاہتے ہیںاسے ہدايت دے ديتے ہیں )
ا شارہ ہے جبكہ آيت كے تنزيلی اور ظاہری معنی كا لحاظ كریں تو اس كے ظاہری معنی یہی ہیں كہ خدا نے روح القدس كو معلم اورہادی كے عنوان سے القاء فرمايا ہے اور اسی كی مانند سورہ انبياء كی ۷۳ ویں آيت
«و جعلنا ہم آئمۃ یہدون بامرنا و اوحينا الیہم فعلَ الخيرات و اقامَ الصلوۃ وايتائَ الزكوۃ و كانوا لنا عابدين »
(ترجمہ :اور ہم نے ان سب كو پيشوا قرار ديا ہے جو ہمارے حكم سے ہدايت كرتے تھے اور ان كی طرف كار خير كرنے نماز قائم كرنے اور زكاۃ ادا كرنے كی وحی كی اور یہ سب كے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے)
میں فعل الخيرات سے مراد یہی روح القدس مرادہے جيسا كہ ہم انشاء اللہ اس آيت كی تفسير میں بيان كریں گے۔
اسی طرح یہ بھی روشن ہوا كہ«و انزل اللہ عليك الكتاب و الحكمۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.......»میں’’ الكتاب‘‘ سے لوگوں كے اختلاف كو رفع كرنے كے لئے آنے والی وحی مرادہےاور ’’حكمت ‘‘سے وحی كے ذريعہ نازل ہونے والے دنيا اور آخرت كے منفعت بخش باقی معارف الہیہ مراد ہیں اور’’علمك ما لم تكن تعلم ‘‘ سے كتاب اور حكمت كے عمومی معارف الہیہ كے علاوہ ديگر تعليمات مراد ہیں۔
عصمت كے اہل افراد
در حقيقت انسان اس عالم میں كسی چيز كا مالك نہیں بلكہ ہر چيز كا مالك حقيقی ذات خدا ہے جو كچھ بھی انسان كے پاس ہے وہ خدا كا ديا ہوا ہے پس اس بنا پر اگر انسان اپنےآپ ص كو خدا كے لئے خالص قرار ديتا ہے تو در حقيقت خدا نے اسے خالص كيا ہے۔
قرآن كريم میں مخلصين كا تذكرہ مخلص(لام كے كسره كے ساته) اور مخلص(لام كے فتحه كے ساته دوطرح سے استعمال ہوا ہے۔خدا نے بعض ہستيوں كو معتدل اور مستقيم فطرت پرپيدا كيا ہے لہذا ابتدائے خلقت سے ہی ان كی قلوب سالم ، نفوس كی پاكيزگی اور صحيح ادراكات كے ساتھ نشوو نما ہوتی ہے پس یہ ہستياں اسی فطرت سليم اور سلامت نفس كے ساتھ كسی عمل كو انجام ديئے بغير ہی اخلاص كی نعمت سے مالا مال ہوتی ہیںجبكہ دوسرے لوگ اس مرتبہ تك پہنچنے كے لئے جس قدر جدو جہد كریں وہ ان ہستيوں كے مرتبہ تك نہیں پہنچ سكتے كيونكہ ان كے قلوب مانع اور مزاحم ہونے والیں گندگيوں سے پاك ہیںقرآن نے ايسی ہستيوں كو ہی مخلصين(لام فتحه كے ساته) سے خطاب كيا ہے ۔ وہ انبياء ع اور آئمہ ع ہیں اور قرآن كريم نے اس كی صراحت كی ہے كہ خدا نے انہیں اپنے لئے چن ليا ہے جيساكہ ارشاد خدا وندی ہے كہ
« واجتبيناہ و ہديناہم الی صراط مستقيم»۸۷ الانعام
(ترجمہ :خود انہیں بھی منتخب كيا اور سب كو سيدھے راستے كی ہدايت كر دی)
اور پھر فرمايا «ہو اجتبا كم و ما جعل عليكم فی الدين من حرج»۸۷ الحج
(ترجمہ :اس نے تمہیں منتخب قرار ديا ہے اور دين میں كوئی زحمت قرار نہیں دی ہے )
اور یہی وہ ہستياں ہیں جنہیں خدا نے علم میں سے ملكہ عصمت سے نوازا ہے جو ان كی ارتكا ب گناہ اور معصيت سے حفاظت كرتا ہے اور اسی ملكہ عصمت كی وجہ سے ہر قسم كے گناہ كبيرہ اور صغيرہ كا صدور ان سے ممكن نہیں ہوتا۔ ( درست ہے )ملكہ عصمت اور ملكہ عدالت كے حامل افراد دونوں ہی سے گناہ كا ارتكاب نہیں ہوتا ليكن ان كے درميان یہ فرق ہے كہ معصوم میں ملكہ عصمت كی وجہ سے گناہ كا صدور ممتنع ہو جاتا ہے اورعادل شخص میں ملكہ عدالت كی وجہ سے گناہ كا صدور ممتنع نہیں ہوتا۔
ہم نے اس سے پہلے بھی اس كو بيان كيا تھا كہ یہ ہستياں خدا كی جانب سے ايسی باتوں سے آگا ہ ہوتیں ہیں كہ جن كا دوسروں كو علم نہیں ہوتا اورخدا نے خود اس كی تصديق كرتے ہوئے فرمايا ہے
«سبحان اللہ عما يصفون، الا عبادَ اللہ المخلصين »۱۵۹ ،۱۶۰ الصافات
(ترجمہ :خدا سب كے بيانات سے بلند و بر تر پاك اور پاكيزہ ہے علاوہ خدا مخلص اور نيك بندوں كے)
محبت الہی انہیں اس بات پر ابھارتی ہے كہ وہ صرف اسی چيز كا ارادہ كرتے ہیں جس كا خدا ارادہ كرتا ہے اور وہ مكمل طور پر خدا كی مخالفتوں سے ركے رہتے ہیں اور قرآ ن نے اس كی تصديق كی ہے اور ابليس كی زبان سے اس كی حكايت كرتے ہوے مختلف جگہوں پر اس كو ذكر كيا ہے جيسا كہ ايك جگہ پر ارشاد ہے
«فبعزَتك لاغوينّہم اجمعين الا عبادك منہم المخلصين »۸۲ ، ۸۳ ص
(ترجمہ :اس نے كہا توپھر تيری عزت كی قسم! میں سب كو گمراہ كروں گا ،علاوہ تيرے ان بندوں كے جنہیں تو نے خالص بنا ليا ہے)
سورہ نساء كی ۱۱۳ ویں آيت
«و لو لا فضل اللہ ..............»ايك شاہد ہے كہ جو عصمت كے علم ہونے پر دلالت كرتا ہے اور اس كی تفصيل گزر چكی ہے اور اسی طرح سورہ يوسف میں حضرت يوسف ص كا یہ ارشاد
« و قال ربِّ السجن احبّ الیّ مما يدعوننی الیہ و الا تصرف عنّی كيدہنّ اصب الیہنّ و اكن مِن الجاہلين»۳۳ يوسف
(ترجمہ :يوسف عنے كہا پروردگار!یہ قيد مجھے اس كام سے زيادہ محبوب ہے جس كی طرف یہ لوگ دعوت دے رہے ہیںاور اگر تو ان كے مكر كو ميری طرف سے موڑ نہیں دے گا تو میں انكی طرف مائل ہو سكتا ہوں اور ميرا شمار بھی جاہلوں سے ہو سكتا ہے)
اورہم نے اس آيت كی دلالت كی وجہ كو بيان كرتے ہوئے كہا تھا كہ وہ قوت كہ جس كے ذريعہ حضرت يوسف ع نے اپنی صنی پاكدامنی كی حفاظت كی وہ عصمت تھی اور یہ عصمت علوم اور معارف كی ايك قسم ہے كيونكہ حضرت يوسف ع نے « واكن من الجاہلين »(اور ميرا شمار بھی جاہلوں سے ہو سكتا ہے) كہا حضرت يوسف ع نے اس قوت( عصمت )كے نہ ہونے كو جہالت سے تعبير كيا ہے یہ عصمت كے علم ہونے پر دليل ہے ۔اگرعصمت علم كے علاوہ كوئی اور چيز ہوتی تو حضرت يوسف ع ’’اكن من الظالمين ‘‘ كہتے۔
عصمت اور دوسرے علوم میں فرق
۱)یہ علم جس كا نام ہم نے عصمت ركھا ہے یہ دوسرے علوم سے اس لحاظ سے فرق ركھتا ہے كہ یہ ان حاملان عصمت كو گناہوں اور برائيوںسے روكتا ہے اور نيك كاموں كی ترغيب ديتا ہے اس كے ساتھ ساتھ اس علم كا اثردائمی اور قطعی ہوتا ہے۔ اس كا اثر كبھی علم سے جدا نہیں ہو سكتا جبكہ دوسرے علوم میں علم كا اثر دائمی اور قطعی نہیں ہوتا جيسا كہ قرآن كريم كا اسكے بارے میں ارشاد
«و جحدوا بھا واستقينتھا انفسہم»(۱۴النمل)
(ترجمہ: ان لوگوں نے ظلم اور غرور كی بناء پر انكار كرديا تھا ورنہ ان كے دلوں كو يقين تھا )
اور دوسری جگہ ارشاد ہے«افرأيت من اتخذالہہ ہواہ و اضلہ اللہ علی علم»( ۲۳ الجاثیہ)
(ترجمہ:كيا آپ ص نے اس (شخص ) كو نہیں ديكھا ہے جس نے اپنی خواہش نفس كو ہی اپنا معبود بنا ليا ہے اور اللہ نے اسی علم كے ہوتے ہوئے گمراہ كر ديا ہے)
اور پھر فرمايا ہے«فما اختلفوا الا من بعد ما جاء ہم العلم بغياًبينہم ‘‘(۱۷الجاثیہ)
(پھران لوگوں نے علم آنے كے بعدآپ صس كی ضد میں اختلاف كيا)
اور«سبحان اللہ عما يصفون الا عبادك المخلصون »( ۵۹ ۱،۱۶۰الصافات)
(ترجمہ: خدا ان كے بيانات سے بلندو بالاتر اور پاك و پاكيزہ ہے ؛مگر خداكے مخلص بندے جو اس كی توصيف كرتے ہیں وہ (خدا ) اس كے لائق ہے)
كی آيت بھی اسی معنی پر دلالت كرتی ہے كيونكہ خدا نے مخلصين(لام فتحه كے ساته) كی توصيف كو صحيح كہا ہے اور خدا نے اس توصيف كو جس كے ساتھ هم اسكی توصيف كرتے ہیں اس توصيف كو صحيح شمار نہیں كيا جبكہ مخلصين(لام كے فتحه كے ساته) يعنی انبياءع اور آئمہ ع نے اسماء خدا اور اسكی صفات سے متعلق معارف دين كو ہمارے لئے بيان كيا اور ہماری عقل بھی اس كی تائيد كرتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ ان ہستيوں كا علم ہمارے علم سے جدا ہے اگرچہ ہمارا اور ان كا علم ايك ہی چيزيعنی اسماء خدا اور اس كی صفات سے تعلق ركھتا ہے۔
۲)ملكہ عصمت اختيار كے منافی نہیں اور گناہ سے دوری معصوم كے اپنے اختيار سے ہوتی ہے۔
ملكہ عصمت كا اثر اس كے علم سے تخلف نہیں كرتا اور اس كا یہ اثر دائمی اور يقينی ہے اس كے باوجودیہ ملكہ طبيعت انسان يعنی انسان اپنےافعال كو اپنےارادے اور اختيار سے انجام ديتا ہے میں كسی قسم كی كوئی تبديلی نہیں لاتا اور اس كو انجام افعال میں مجبور و مضطر نہیں كرتا ۔ یہ كيونكر اسے مجبور كرے؟كيونكہ خود علم اختيار كے مقدمات میں سے ايك مقدمہ ہے اور صرف علم كا قوی ہوناجبر كا باعث نہیں بن سكتا یہ صرف اس كے ارادے كو قوی اور مضبوط كرتا ہے جيسا كہ سلامتی بدن كا طالب جب كسی چيز كے بارے میںزہر قاتل ہونے كا يقين پيدا كر ليتا ہے جس قدر بھی اس كا يقين قوی ہو جائے اس كا زہر قاتل سے اجتناب اور پرہيز كرنا يقينا اس كے اپنے ارادہ اور اختيار سے ہوتا ہے اور وہ مكمل طور پر اپنے ارادہ اور اختيا ر كے ساتھ اس كے كھانے سے پرہيز كرتا ہے ۔ فاعل مختار كو صرف اس وقت مجبور كہا جاتا ہے جب فاعل كی نسبت فعل كو انجام دينے يا ترك كرنے میں سے كوئی ايك جانب اس كے لئے ضروری ہو جائے جب تك اس كے لئے فعل كی دونوں جانب(انجام دينا يا ترك كرنا)كو بجا لانا ممكن ہواسے فاعل مختار كو كہا جاتا ہے۔
ہمارے اس دعوی پر سورہ انعام كی ۸۷ اور۸۸ ویں آيتیں
«و اجتبيناہ و ہديناہم الی صراط مستقيم ذلك ہدی اللہ یہدی بہ من يشاء من عبادہ ولو أشركوا لحبط عنہم ما كانوا يعملون»
(۸۷،۸۸الانعام۶)
(ترجمہ :اور خود انہیں بھی منتخب كيا اور سب كو سيدھے راستہ كی ہدايت كردی ،اور یہی خدا كی ہدايت ہے جسے جس بندے كو چاہتا ہے عطا كر ديتا ہے اور اگر یہ لوگ شرك اختيار كر ليتے تو ان كے بھی سارے اعمال برباد ہو جاتے)
شاہد ہیں كہ جو اس بات پر دلالت كرتی ہیں كہ انبياءع خداكے برگزيدہ منتخب نمائندے ہیں اور خداكی جانب سے ہدايت يافتہ ہیں اس كے باوجود انبياء ع كے مشرك ہو جانے كا امكان موجود ہے اس ہدايت اور انتخاب نے انہیں ايمان قبول كرنے پر مجبور نہیں كيا اگرچہ یہ(ہدايت اور انتخاب) شرك كے اختيار نہ كرنے میں صرف ايك ركاوٹ ( كی مانند) ہے۔اسی طرح مائدہ كی یہ آيت
«يا ایہا الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ۔۔۔۔»
(۶۷ المائدہ۵)
(ترجمہ:اے پيغمبر !آپ ص اس حكم كو پہنچا دیں جو آپ ص كے پروردگار كی طرف سے نازل كيا گيا ہے اور وگر آپ ص نے یہ نہ كيا تو گويا اس كے پيغام كو نہیں پہنچايا .......۔)
اور اس كے علاوہ ديگر آيات بھی اسی مطلب كو بيان كر تی ہیں۔
پس معصوم انسان اپنے ا ختيار اورارادہ كے ذريعہ معصيت سے دور رہتا ہے ۔ معصوم كا معصيت سے دور رہنا غير معصوم كا توفيق الہی كی مدد سے گناہ سے دوری اختيار كرنے كی مانند ہے يعنی جس طرح ايك غير معصوم شخص خدا كی عنايت اور توفيق كے ذريعہ اپنے ارادہ اور اختيار كے ساتھ گناہ سے پرہيز كرتا ہے بالكل اسی طرح معصوم ع روح قدس كی مدد سے مكمل طور پر اپنے ہی ارادہ اور اختيار سے گناہ سے دوری اختيار كرتا ہے ۔ احاديث اوراخبار كی یہ تصريح كہ انبياء ع اورآئمہ ع روح القدس كی محكم اور درست ہدايت كی مدد سے گناہ سے دوری اختيار كرتے ہیں مذكورہ آيات قرآنی سے كسی قسم كی منافات نہیں ركھتیں كيونكہ معصومين اورتسديد روح القدس كا باہمی تعلق مؤمن اورروح ايمان كے اورگمراہی و ضلالت اور شيطان كے باہمی تعلق كی مانند ہے يعنی روح ايمان كے سہارے مؤمن كا نيك اور شيطان كے ورغلانے كی بناء پر گمراہ شخص كا عمل بد انجام دينا مؤمن اور ضال كے اختيار كے ساتھ كوئی منافات نہیںركھتا- دونوں مكمل طور پر اپنے ارادہ اور خود مختاری سے فعل كو انجام ديتے ہیں لہذا روح ايمان اور گمراہی شيطان میں سے كوئی بھی چيز فاعل كے فعل كو فاعل كی خود مختاری اور ارادہ كے حيطہ و محدوديت سے باہر نكالنے كا سبب نہیں بنتی۔ اس میںدقت كيجئے(یہ نہیں كہا جاسكتا كہ روح ايمان كی وجہ سے مؤمن نے اچھا عمل انجام ديا ہے لہذا مؤمن مجبور ہے اسی طرح گمراہ شخص بھی مجبور ہے)
بعض لوگوں نے یہ گمان كيا ہے كہ انسان جس چيز كا ارادہ ركھتا ہے خدا انسان كو اس كے ارادہ اور اختيار كے ذريعہ سے نہیںبلكہ مختلف اسباب كے ذريعہ روكتا ہے مثلاًايك جديد ارادہ كے ايجاد يافرشتہ كے بھيجنے كے ذريعہ انسان كواس كے ارادہ كے مؤثر ہونے سے روكتا ہے يا جس ہدف كا اس نے قصد و ارادہ كيا ہوتا ہے اس كے راہ میں تبديلی اور انحراف پيدا كر ديتا ہے بالكل اس طرح سے جيسے قوی و مضبوط ارادہ كاما لك ايك ضعيف ارادہ كے حامل شخص كو اس كے ارادہ كے مطابق فعل انجام دينے سے روك ديتا ہے ۔
اس نظریہ كے مالك اگرچہ جبری مسلك سے ہیں ليكن اس نظریہ كے حامی اور اس سے ملتے جلتے نظريات كے حامل افراد اس اساسی نكتہ پر متفق ہیں اوروہ یہ خيال كرتے ہیں كہ تمام موجودات ابتدائی طور پر حدوث (ايجاد) میںتو خدا كے محتاج ہیں ليكن اپنی بقاء میں خدا كے محتاج نہیں ہیں ۔ خدا كی ذات دوسرے اسباب كے مقابلہ میں ايك ايسا سبب ہے جو دوسرے اسباب كی نسبت زيادہ قدرت اور طاقت ركھنے والا ہے جو تمام موجودات میں جس قسم كا تصرف كرنا چاہے كر سكتا ہے وہ ايك موجود كو ہونے سے روكتا ہے دوسرے كو آزاد چھوڑ ديتا ہے، ايك كو زندگی بخشتا ہے تو دوسرے كو موت ، ايك كو عافيت ديتا ہے تو دوسرے كو مرض اور اگرايك كو رزق وسيع ديتا ہے تو دوسرے كو تہی دست ومفلس كر ديتا ہے ۔
پس جب (بندہ گناہ كرنا چاہے اور) خدا اسے روكنا چاہتا ہو توخدا ايك فرشتہ كو بھيجتا ہے جو بندے كو اس كی طبيعت كے بر خلاف اسے گناہ سے روكتا ہے اور اس كے ارادہ كو شر كی بجائے خير كی جانب موڑ ديتا ہے ( اسی طرح ) اگر بندے كے استحقاق كی وجہ سے خدا كسی كوگمراہ كرنا چاہتا ہے توخدا شيطان كو اس پر مسلط كر ديتا ہے تو وہ اسے خير سے شر كی جانب موڑ ديتا ہے اگر چہ یہ شيطانی انحراف و تبديلی جبر اور اضطرار كی حد تك نہیں پہنچتی۔
یہ دليل درست نہیں ( وجدان اس كے خلاف ہے) كيونكہ ہم اپنے نفوس میں اعمال خير اور اعما ل شر كا مشاہدہ كرتے ہیں ہم جانتے ہیں اور درك كرتے ہیں كہ صرف ہمارا اپنا نفس ہے جو شعور، آگاہی اور ارادہ كے ساتھ اعمال كو انجام ديتا ہے اور یہ شعور اور ارادہ اسی نفس كے ساتھ قائم ہے۔ اس(نفس) كے علاوہ اور كوئی ايسا سبب نہیں جو ہمارے اندر تبديلی پيدا كرے يا ہمارے نفس سے نزاع كرے اور نفس پر غالب آجائے۔ پس نفوس كے علاوہ فرشتہ اور شيطان كی مانند دوسرے اسباب جن كو عقل يا نقل (آيات و روايات)ثابت كرتی ہے یہ سب طولی اسباب میں سے ہیں اوریہ باكل واضح ہے۔
اس كے علاوہ توحيد اور اس كے متعلق دوسرے معارف قرآنی اس اصل نظریہ(جبر) كے مخالف ہیں۔

نظرات بینندگان
captcha