زندگی نامہ حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیہا

IQNA

زندگی نامہ حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیہا

18:23 - June 08, 2008
خبر کا کوڈ: 1658450
نام، القاب نام فاطمہ اور مشہور لقب زہرا، سيدۃ النساء العلمين، راضیۃ، مرضیۃ، شافعۃ، صديقہ، طاھرہ، زكیہ، خير النساء اور بتول ہیں۔
كنيت
آپ كی مشہور كنيت ام الآئمۃ، ام الحسنين، ام السبطين اور امِ ابیہا ہے۔ ان تمام كنيتوں میں سب سے زيادہ حيرت انگيز ام ابیھا ھے، يعنی اپنے باپ كی ماں، یہ لقب اس بات كا ترجمان ھے كہ آپ اپنے والد بزرگوار كو بے حد چاھتی تھیں اور كمسنی كے باوجود اپنے بابا كی روحی اور معنوی پناہ گاہ تھیں ۔
پيغمبر اسلام(ص) نے آپ كو ام ابیھا كا لقب اس لئے ديا . كيونكہ عربی میں اس لفظ كے معنی، ماں كے علاوہ اصل اور مبداء كے بھی ھیں يعنی جڑ اور بنياد ۔ لھذا اس لقب( ام ابیھا) كا ايك مطلب نبوت اور ولايت كی بنياد اور مبدا بھی ہے۔ كيونكر یہ آپ ھی كا وجود تھا، جس كی بركت سے شجرہ ٴ امامت اور ولايت نے رشد پايا، جس نے نبوت كو نابودی اور نبی خدا كو ابتريت كے طعنہ سے بچايا ۔

والدين
آپ كےوالد ماجد ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) اور والدہ ماجدہ حضرت خديجہ بنت خولد ہیں۔ ھم اس باپ كی تعريف میں كيا كھیں جو ختم المرسلين، حبيب خدا اور منجی بشريت ھو ؟ كيا لكھیں اس باپ كی تعريف میں جسكے تمام اوصاف و كمالات لكھنے سے قلم عاجز ہو؟ فصحاء و بلغاء عالم، جس كے محاسن كی توصيف سے ششدر ہوں؟ اور آپ كی والدہ ماجدہ، جناب خديجہ بنت خويلد جو قبل از اسلام قريش كی سب سے زيادہ باعفت اور نيك خاتون تھیں ۔ وہ عالم اسلام كی سب سے پھلی خاتون تھیں جو خورشيد اسلام كے طلوع كے بعد حضرت محمد مصطفی(ص) پر ايمان لائیں اور اپنا تمام مال دنيا اسلام كو پروان چڑھانے كےلئے اپنے شوھر كے اختيار میں دے ديا ۔ تاريخ اسلام، حضرت خديجہ(س) كی پيغمبر اسلام(ص) كے ساتھ وفاداری اور جان و مال كی فداكاری كو ھرگز نھیں بھلا سكتی۔ جيسا كہ خود پيغمبر اسلام (ص) كے كردار سے ظاھر ھوتا ھے كہ جب تك آپ زندہ تھیں كوئی دوسری شادی نھیں كی اور ھميشہ آپ كی عظمت كا قصيدہ پڑھا، عائشہ زوجہ پيغمبر(ص) فرماتی ھیں :
" ازواج رسول(ص) میں كوئی بھی حضرت خديجہ كے مقام و احترام تك نھیں پہنچ پائی ۔ پيغمبر اسلام(ص) ھميشہ انكا ذكر خير كيا كرتے تھے اور اتنا احترام كہ گويا ازواج میں سے كوئی بھی ان جيسی نھیں تھی ۔"پھر عائشہ كھتی ھیں : میں نےايك دن پيغمبر اسلام(ص) سے كہا :
" وہ محض ايك بيوہ عورت تھیں" تو یہ سن كر پيغمبر اسلام(ص) اس قدر ناراض ھوئے كہ آپ كی پيشانی پر بل پڑ گئے اور پھر فرمايا :
"خدا كی قسم ميرے لئے خديجہ سے بھتر كوئی نھیں تھا ۔ جب سب لوگ كافر تھے تو وہ مجھ پر ايمان لائیں، جب سب لوگ مجھ سے رخ پھير چكے تھے تو انہوں نے اپنی ساری دولت ميرے حوالے كر دی ۔ خدا نے مجھے اس سے ايك ايسی بیٹی عطا كی كہ جو تقویٰ، عفت و طھارت كا نمونہ ھے ۔ "پھر عائشہ كہتی ھیں : میں یہ بات كہہ كر بہت شرمندہ ھوئی اور میں نے پيغمبر اسلام(ص) سے عرض كيا : اس بات سے ميرا كوئی غلط مقصد نھیں تھا ۔
حضرت فاطمہ زھراء(س) ايسی والدہ اور والد كی آغوش پروردہ ھیں ۔

ولادت
حضرت فاطمہ زھرا(ع) كی تاريخ ولادت كے سلسلہ میں علماء اسلام كے درميان اختلاف ہے۔ ليكن اہل بيت عصمت و طہارت كی روايات كی بنياد پر آپ كی ولادت بعثت كے پانچویں سال ۲۰ جمادی الثانی، بروز جمعہ مكہ معظمہ میں ھوئی۔

بچپن اور تربيت
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پانچ برس تك اپنی والدہ ماجدہ حضرت خديجۃ الكبری كے زير سایہ رہیں اور جب بعثت كے دسویں برس خديجۃ الكبریٰ علیہا السّلام كا انتقال ہو گيا ماں كی اغوش سے جدائی كے بعد ان كا گہوارہ تربيت صرف باپ كا سایہ رحمت تھا اور پيغمبر اسلام كی اخلاقی تربيت كا آفتاب تھا جس كی شعاعیں براه راست اس بے نظير گوہر كی آب وتاب میں اضافہ كر رہی تھیں .
جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا كو اپنے بچپن میں بہت سے ناگوار حالات كا سامنا كرنا پڑا۔ پانچ سال كی عمر میں سر سے ماں كا سایہ اٹھ گيا ۔ اب باپ كے زير سایہ زندگی شروع ہوئی تو اسلام كے دشمنوں كی طرف سے رسول كو دی جانے والی اذيتیں سامنے تھیں ۔ كبھی اپنے بابا كے جسم مبارك كو پتھروں سے لہو لہان ديكھتیں تو كبھی سنتی كے مشركوں نے بابا كے سر پر كوڑا ڈال ديا۔ كبھی سنتیں كہ دشمن بابا كے قتل كا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ مگر اس كم سنی كے عالم میں بھی سیّدہ عالم نہ ڈریں نہ سہمیں نہ گھبرائیں بلكہ اس ننھی سی عمر میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ كی مددگار بنی رہیں۔

حضرت فاطمہ(س) كی شادی
یہ بات شروع سے ہی سب پر عياں تھی كہ علی(ع) كے علاوہ كوئی دوسرا دختر رسول(ص) كا كفو و ہمتا نھیں ہے ۔ اس كے باوجود بھی بہت سے ايسے لوگ، جو اپنے آپ كو پيغمبر(ص) كے نزديك سمجھتے تھے اپنے دلوں میں دختر رسول(ص) سے شادی كی اميد لگائے بیٹھے تھے ۔
مورخين نے لكھا ھے : جب سب لوگوں نے قسمت آزمائی كر لی تو حضرت علی(ع) سے كہنا شروع كر ديا : اے علی(ع) آپ دختر پيغمبر(ص) سے شادی كے لئے نسبت كيوں نہیں ديتے ۔ حضرت علی(ع) فرماتے تھے : ميرے پاس ايسا كچھ بھی نھیں ھے جس كی بنا پر میں اس راہ میں قدم بڑھاؤں ۔ وہ لوگ كہتے تھے : پيغمبر(ص) تم سے كچھ نہیں مانگیں گے ۔
آخركار حضرت علی(ع) نے اس پيغام كے لئے اپنے آپ كو آمادہ كيا اور ايك دن رسول اكرم(ص) كے بيت الشرف میں تشريف لے گئے ليكن شرم و حيا كی وجہ سے آپ اپنا مقصد ظاھر نہیں كر پا رہے تھے ۔
مورخين لكھتے ھیں كہ : آپ اسی طرح دو تين مرتبہ رسول اكرم(ص) كے گھر گئے ليكن اپنی بات نہ كہہ سكے۔ آخر كار تيسری مرتبہ پيغمبر اكرم(ص) نے پوچھ ہی ليا : اے علی كيا كوئی كام ھے ؟
حضرت امير(ع) نے جواب ديا : جی، رسول اكرم(ص) نے فرمايا : شايد زھراء سے شادی كی نسبت لے كر آئے ھو ؟ حضرت علی(ع) نے جواب ديا، جی ۔ چونكہ مشيت الٰھی بھی یہی چاہ رہی تھی كہ یہ عظيم رشتہ برقرار ھو لھذا حضرت علی(ع) كے آنے سے پہلے ہی رسول اكرم(ص) كو وحی كے ذريعہ اس بات سے آگاہ كيا جا چكا تھا ۔ بہتر تھا كہ پيغمبر(ص) اس نسبت كا تذكرہ زھراء سے بھی كرتے لھذا آپ نے اپنی صاحب زادی سے فرمايا : آپ، علی(ع) كو بہت اچھی طرح جانتیں ھیں ۔ وہ سب سے زيادہ ميرے نزديك ھیں ۔ علی(ع) اسلام كے سابق خدمت گذاروں اور با فضيلت افراد میں سے ھیں، میں نے خدا سے یہ چاہا تھا كہ وہ تمھارے لئے بھترين شوھر كا انتخاب كرے ۔
اور خدا نے مجھے یہ حكم ديا كہ میں آپ كی شادی علی(ع) سے كر دوں آپ كی كيا رائے ھے ؟
حضرت زھراء(س) خاموش رھیں، پيغمبر اسلام(ص) نے آپ كی خاموشی كو آپ كی رضا مندی سمجھا اور خوشی كے ساتھ تكبير كہتے ھوئے وھاں سے اٹھ كھڑے ھوئے ۔ پھر حضرت امير(ع) كو شادی كی بشارت دی ۔ حضرت فاطمہ زھرا(س) كا مھر ۴۰ مثقال چاندی قرار پايا اور اصحاب كے ايك مجمع میں خطبہ نكاح پڑھا ديا گيا ۔ قابل غور بات یہ ھے كہ شادی كے وقت حضرت علی(ع) كے پاس ايك تلوار، ايك ذرہ اور پانی بھرنے كے لئے ايك اونٹ كے علاوہ كچہ بھی نہیں تھا، پيغمبر اسلام(ص) نے فرمايا : تلوار كو جھاد كے لئے ركھو، اونٹ كو سفر اور پانی بھرنے كے لئے ركھو ليكن اپنی زرہ كو بيچ ڈالو تاكہ شادی كے وسائل خريد سكو ۔ رسول اكرم(ص) نے جناب سلمان فارسی سے كہا : اس زرہ كو بيچ دو ۔ جناب سلمان نے اس زرہ كو پانچ سو درھم میں بيچا ۔ پھر ايك بھیڑ ذبح كی گئ اور اس شادی كا وليمہ ھوا ۔ جھيز كا وہ سامان جو دختر رسول اكرم(ص) كے گھر لايا گيا تھا،اس میں چودہ چيزیں تھی ۔
شھزادی عالم، زوجہ علی(ع)، فاطمہ زھراء(ع) كا بس یہی مختصر سا جہيز تھا ۔ رسول اكرم(ص) اپنے چند با وفا مھاجر اور انصار اصحاب كے ساتھ اس شادی كے جشن میں شريك تھے ۔ تكبيروں كی آوازوں سے مدينہ كی گليوں اور كوچوں میں ايك خاص روحانيت پيدا ھو گئی تھی اور دلوں میں سرور و مسرت كی لہریں موج زن تھیں ۔ پيغمبر اسلام(ص) اپنی صاحبزادی كا ہاتھ حضرت علی(ع) كے ھاتھوں میں دے كر اس مبارك جوڑے كے حق میں دعا كی اور انھیں خدا كے حوالے كر ديا ۔ اس طرح كائنات كے سب سے بہتر جوڑے كی شادی كے مراسم نہايت سادگی سے انجام پائے ۔

حضرت فاطمہ(س) كا اخلاق و كردار
حضرت فاطمہ زھرا اپنی والدہ گرامی حضرت خديجہ كی والا صفات كا واضح نمونہ تھیں جود و سخا، اعلیٰ فكری اور نيكی میں اپنی والدہ كی وارث اور ملكوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار كی جانشين تھیں۔ وہ اپنے شوھر حضرت علی(ع) كے لئے ايك دلسوز، مھربان اور فدا كار زوجہ تھیں ۔ آپ كے قلب مبارك میں اللہ كی عبادت اور پيغمبر كی محبت كے علاوہ اور كوئی تيسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاھليت كی بت پرستی سے آپ كوسوں دور تھیں ۔ آپ نےشادی سے پہلے كی ۹ سال كی زندگی كے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار كے ساتھ اور ۴ سال اپنے بابا كے زير سایہ بسر كئے اور شادی كے بعد كے دوسرے نو سال اپنے شوھر بزرگوار علی مرتضیٰ(ع) كے شانہ بہ شانہ اسلامی تعليمات كی نشرواشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گزارے ۔ آپ كا وقت بچوں كی تربيت گھر كی صفائی اور ذكر و عبادت خدا میں گزرتا تھا ۔ فاطمہ(س) اس خاتون كا نام ھے جس نے اسلام كے مكتب تربيت میں پرورش پائی تھی اور ايمان و تقویٰ آپ كے وجود كے ذرات میں گھل مل چكا تھا ۔
فاطمہ زھرا(س) نے اپنے ماں باپ كی آغوش میں تربيت پائی اور معارف و علوم الھٰی كو، سر چشمہ نبوت سے كسب كيا۔ انہوں نے جو كچہ بھی ازدواجی زندگی سے پہلے سيكھا تھا اسے شادی كے بعد اپنے شوھر كے گھر میں عملی جامہ پھنايا ۔ وہ ايك ايسی مسن وسمجھدار خاتون كی طرح جس نے زندگی كے تمام مراحل طے كر لئے ھوں اپنے گھر كے امور اور تربيت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ ديتی تھیں اور جو كچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رھتی تھیں اور اپنے اور اپنے شوھر كے حق كا دفاع كرتی تھیں ۔

حضرت فاطمہ (س) كا نظام عمل
حضرت فاطمہ زہرا نے شادی كے بعد جس نطام زندگی كا نمونہ پيش كيا وہ طبقہ نسواں كے لئے ايك مثالی حيثيت ركھتا ہے۔ آپ گھر كا تمام كام اپنے ہاتھ سے كرتی تھیں ۔ جھاڑو دينا، كھانا پكانا، چرخہ چلانا، چكی پيسنا اور بچوں كی تربيت كرنا ۔ یہ سب كام اور ايك اكيلی سيدہ ليكن نہ تو كبھی تيوريوں پر بل پڑے اور نہ كبھی اپنے شوہر حضرت علی علیہ السّلام سے اپنے لیے كسی مددگار يا خادمہ كے انتظام كی فرمائش كی۔ ايك مرتبہ اپنے پدر بزرگوار حضرت رسولِ خدا سے ايك كنيز عطا كرنے كی خواہش كی تو رسول نے بجائے كنيز عطا كرنے كے وہ تسبيح تعليم فرمائی جو تسبيح فاطمہ زہرا كے نام سے مشہور ہے ۳۴ مرتبہ الله اكبر، 33 مرتبہ الحمد الله اور 33 مرتبہ سبحان الله ۔ حضرت فاطمہ اس تسبيح كی تعليم سے اتنی خوش ہوئی كہ كنيز كی خواہش ترك كردی ۔ بعد میں رسول نے بلا طلب ايك كنيز عطا فرمائی جو فضہ كے نام سے مشہور ہے۔ جناب سیّدہ اپنی كنيز فضہ كے ساتھ كنيز جيسا برتاؤ نہیں كرتی تھیں بلكہ اس سے ايك برابر كے دوست جيسا سلوك كرتی تھیں. وہ ايك دن گھر كا كام خود كرتیں اور ايك دن فضہ سے كراتیں۔ اسلام كی تعليم يقيناً یہ ہے كہ مرد اور عورت دونوں زندگی كے جہاد میں مشترك طور پر حصہ لیں اور كام كریں . بيكار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف كے اختلاف كے لحاظ سے تقسيم عمل ہے . اس تقسيم كار كو علی علیہ السّلام اور فاطمہ نے مكمل طريقہ پر دُنيا كے سامنے پيش كر ديا۔ گھر سے باہر كے تمام كام اور اپنی قوت بازو سے اپنے اور اپنے گھر والوں كی زندگی كے خرچ كا سامان مہيا كرنا علی علیہ السّلام كے ذمہ تھا اور گھر كے اندر كے تمام كام حضرت فاطمہ زہرا انجام ديتی تھیں۔

حضرت زہرا سلام اللہ كا پردہ
سيدہ عالم نہ صرف اپنی سيرت زندگی بلكہ اقوال سے بھی خواتين كے لیے پردہ كی اہميت پر بہت زور ديتی تھیں. آپ كا مكان مسجدِ رسولِ سے بالكل متصل تھا۔ ليكن آپ كبھی برقع وچارد میں نہاں ہو كر بھی اپنے والدِ بزرگوار كے پيچھے نماز جماعت پڑھنے يا اپ كا وعظ سننے كے لیے مسجد میں تشريف نہیں لائیں بلكہ اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے جب وہ مسجد سے واپس آتے تھے اكثر رسول كے خطبے كے مضامين سن ليا كرتی تھیں . ايك مرتبہ پيغمبر نے منبر پر یہ سوال پيش كر ديا كہ عورت كے لیے سب سے بہتر كيا چيز ہے یہ بات سيدہ كو معلوم ہوئی تو آپ نے جواب ديا عورت كے لئے سب سے بہتر بات یہ ہے كہ نہ اس كی نظر كسی غير مرد پر پڑے اور نہ كسی غير مرد كی نظر اس پر پڑے ۔ رسول كے سامنے یہ جواب پيش ہوا تو حضرت نے فرمايا .

"كيوں نہ ہو فاطمہ ميرا ہی ايك ٹكڑا ہے۔"

حضرت زہرا(س) اور جہاد
اسلام میں عورتوں كا جہاد، مردوں كے جہاد سے مختلف ہے۔ لٰہذا حضرت فاطمہ زہرا نے كبھی ميدانِ جنگ میں قدم نہیں ركھا ۔ ليكن جب كبھی پيغمبر ميدان جنگ سے زخمی ہو كر پلٹتے تو سيدہ عالم ان كے زخموں كو دھوتیں تھیں .اور جب علی علیہ السّلام خون آلود تلوار لے كر آتے تو فاطمہ اسے دھو كر پاك كرتی تھیں۔ وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں كہ ان كا جہاد یہی ہے جسے وہ اپنے گھر كی چار ديواری میں رہ كے كرتی ہیں . ہاں صرف ايك موقع پر حضرت زہرا نصرت اسلام كے لئے گھر سے باہر آئیں اور وہ تھا مباہلے كا موقع۔ كيونكہ یہ ايك پرامن مقابلہ تھا اور اس میں صرف روحانی فتح كا سوال تھا۔ يعنی صرف مباہلہ كا ميدان ايسا تھا جہاں سيدہ عالم خدا كے حكم سے برقع و چادر میں نہاں ہو كر اپنے باپ اور شوہر كے ساتھ گھر سے باہر نكلیں جس كا واقعہ یہ تھا كہ يمن سے عيسائی علماء كا ايك وفد رسول كے پاس بحث ومباحثہ كے لیے آيا اور كئ دن تك ان سے بحث ہوتی رہی جس سے حقيقت ان پر روشن تو ہوگئی مگر سخن پروری كی بنا پر وہ قائل نہ ہونا چاہتے تھے نہ ہوئے . اس وقت قران كی یہ آيت نازل ہوئی كہ
" اے رسول اتنے سچے دلائل كے بعد بھی یہ نہیں مانتے تو ان سے كہو كہ پھر جاؤ ہم اپنے بیٹوں كو لائیں تم اپنے بیٹوں كو لاؤ، ہم اپنی عورتوں كو لائیں تم اپنی عورتوں كولاؤ، ہم اپنے نفسوں كو لائیں تم اپنے نفسوں كو اور الله كی طرف رجوع كریں اور جھوٹوں كے لیے الله كی لعنت يعنی عذاب كی بد دعا كریں .» "
عيسائی علماء پہلے تو اس كے لیے تيار ہوگئے مگر جب رسول الله اس شان سے تشريف لے گئے كہ حسن علیہ السّلام اور حسين علیہ السّلام جيسے بیٹے فاطمہ زہرا جيسی خاتون اور علی علیہ السّلام جيسے نفس ان كے ساتھ تھے تو عيسائيوں نے مباہلہ سے انكار كر ديا اور مخصوص شرائط پر صلح كركے واپس ہو گئے .

فاطمہ زہرا(س) اور پيغمبر اسلام
حضرت فاطمہ زہرا (س) كے اوصاف وكمالات اتنے بلند تھے كہ ان كی بنا پر رسول(ص) فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی كرتے تھے اور عزت بھی ۔ محبت كا ايك نمونہ یہ ہے كہ جب آپ كسی غزوہ پر تشريف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہونےتھے اور جب واپس تشريف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے كے لئے جاتے تھے .
اور عزت و احترام كا نمونہ یہ ہے كہ جب فاطمہ(س) ان كے پاس آتی تھیں تو آپ تعظيم كے لۓ كھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے . رسول كا یہ برتاؤ فاطمہ زہرا كے علاوہ كسی دوسرے شخص كے ساتھ نہ تھا .

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پيغمبر(ص) كی نظر میں
سيدہ عالم كی فضيلت میں پيغمبر كی اتنی حديثیں وارد ہوئی ہیں كہ جتنی حضرت علی علیہ السّلام كے سوا كسی دوسری شخصيت كے لیے نہیں ملتیں .
ان میں سے اكثر علماء اسلام میں متفقہ حيثيت ركھتی ہیں . مثلاً
" آپ بہشت میں جانے والی عورتوں كی سردار ہیں۔ "
" ايما ن لانے والی عوتوں كی سردار ہیں ."
" تما م جہانوں كی عورتوں كی سردار ہیں "
" آپ كی رضا سے الله راضی ہوتا ہے اور آپ كی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے "
" جس نے آپ كو ايذا دی اس نے رسول كو ايذا دی"
اس طرح كی بہت سی حديثیں ہیں جو معتبر كتابوں میں درج ہیں .

فاطمہ زہرا(س) پر پڑنے والی مصيبتیں
افسوس ہے كہ وہ فاطمہ(س) جن كی تعظيم كو رسول كھڑے ہوجاتے تھے رسول كے جانے كے بعد اہل زمانہ كا رخ ان كی طرف سے پھر گيا ۔ ان پر طرح طرح كے ظلم ہونے لگے ۔ علی علیہ السّلام سے خلافت چھين لی گئ ۔ پھر آپ سے بيعت كا سوال بھی كيا جانے لگا اور صرف سوال ہی پر اكتفا نہیں بلكہ جبروتشدّد سے كام ليا جانے لگا. انتہا یہ كہ سیّدہ عالم كے گھر پر لكڑياں جمع كر دیں گئیں اور آگ لگائی جانے لگی . اس وقت آپ كو وہ جسمانی صدمہ پہنچا، جسے آپ برداشت نہ كر سكیں اور وہی آپ كی وفات كا سبب بنا۔ ان صدموں اور مصيبتوں كا اندازہ سیّدہ عالم كی زبان پر جاری ہونے والے اس شعر سے لگايا جا سكتا ہے كہ
صُبَّت علیَّ مصائبُ لوانھّا صبّت علی الایّام صرن لياليا
يعنی "مجھ پر اتنی مصيبتیں پڑیں كہ اگر وہ دِنوں پر پڑتیں تو وہ رات میں تبديل ہو جاتے"۔
سيدہ عالم كو جو جسمانی وروحانی صدمے پہنچے ان میں سے ايك، فدك كی جائداد كا چھن جانا بھی ہے جو رسول نے سيدہ عالم كو مرحمت فرمائی تھی۔ جائيداد كا چلا جانا سيدہ كے لئے اتنا تكليف دہ نہ تھا جتنا صدمہ اپ كو حكومت كی طرف سے آپ كے دعوے كو جھٹلانے كا ہوا. یہ وہ صدمہ تھا جس كا اثر سیّدہ كے دل میں مرتے دم تك باقی رہا .

حضرت فاطمہ زہرا(س) كی وصيتیں
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتين كے لیے پردے كی اہميت كو اس وقت بھی ظاہر كيا جب آپ دنيا سے رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح كہ آپ ايك دن غير معمولی فكر مند نظر آئیں . آپ كی چچی(جعفر طيار(رض) كی بيوہ) اسماء بنتِ عميس نے سبب دريافت كيا تو آپ نے فرمايا كہ مجھے جنازہ كے اٹھانے كا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا كہ عورت كی میّت كو بھی تختہ پر اٹھايا جاتا ہے جس سے اس كا قدوقامت نظر اتا ہے . اسما(رض) نے كہا كہ میں نے ملك حبشہ میں ايك طريقہ جنازہ اٹھانے كا ديكھا ہے وہ غالباً آپ كو پسند ہو. اسكے بعد انھوں نے تابوت كی ايك شكل بنا كر دكھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں
اور پيغمبر كے بعد صرف ايك موقع ايسا تھا كہ اپ كے لبوں پر مسكراہٹ آ گئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی كہ آپ كو اسی طرح كے تابوت میں اٹھايا جائے . مورخين تصريح كرتے ہیں كہ سب سے پہلی لاش جو تابوت میں اٹھی ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا كی تھی۔ ا سكے علاوہ آپ نے یہ وصيت بھی فرمائی تھی كہ آپ كا جنازہ شب كی تاريكی میں اٹھايا جائے اور ان لوگوں كو اطلاع نہ دی جائے جن كے طرزعمل نے ميرے دل میں زخم پيدا كر دئے ہیں ۔ سيدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی كے عالم میں اس دنيا سے رخصت ہوئیں۔

شہادت
سيدہ عالم نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا كی وفات كے 3 مہينے بعد تيسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری قمری میں وفات پائی . آپ كی وصیّت كے مطابق آپ كا جنازہ رات كو اٹھايا گيا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہيز و تكفين كا انتظام كيا . صرف بنی ہاشم اور سليمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جيسے مخلص و وفادار اصحاب كے ساتھ نماز جنازہ پڑھ كر خاموشی كے ساتھ دفن كر ديا . آپ كے دفن كی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں كو نہیں ہوئی، جس كی بنا پر یہ اختلاف رہ گيا كہ اپ جنت البقيع میں دفن ہیں يا اپنے ہی مكان میں جو بعد میں مسجد رسول كا جزو بن گيا۔ جنت البقيع میں جو آپ كا روضہ تھا وہ بھی باقی نہیں رہا۔ اس مبارك روضہ كو 8 شوال سن ۱۳۴۴ھجری قمری میں ابن سعود نے دوسرے مقابر اہليبيت علیہ السّلام كے ساتھ منہدم كرا ديا۔

اولاد
حضرت فاطمہ زہرا(س) كو اللہ نے پانچ اولاد عطا فرمائیں جن میں سے تين لڑكے اور دو لڑكياں تھیں ۔ شادی كے بعد حضرت فاطمہ زہرا صرف نو برس زندہ رہیں ۔ اس نو برس میں شادی كے دوسرے سال حضرت امام حسن علیہ السّلام پيدا ہوئے اور تيسرے سال حضرت امام حسين علیہ السّلام . پھر غالباً پانچویں سال حضرت زينب اور ساتویں سال حضرت امِ كلثوم ۔ نویں سال جناب محسن علیہ السلام بطن میں تھے جب ھی وہ ناگوار مصائب پيش آئے جن كے سبب سے وہ دنيا میں تشريف نہ لا سكے اور بطن مادر میں ہی شہيد ہو گئے۔ اس جسمانی صدمہ سے حضرت سیّدہ بھی جانبر نہ ہوسكیں .لہذا وفات كے وقت آپ نے دو صاحبزادوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسين علیہما السّلام اور دو صاحبزاديوں زينب كبری و امِ كلثوم كو چھوڑا جو اپنے اوصاف كے لحاظ سے طبقہ خواتين میں اپنی ماں كی سچی جانشين ثابت ہوئیں .

منبع:تبيان
نظرات بینندگان
captcha