شہيد مزاری نے 5 جون 1963 ع كو ايرانی عوام كی وسيع انقلابی تحريك كے بعد ايران كے صوبۂ سيستان و بلوچستان كے علاقے میں اپنی سرگرميوں كا آغاز كيا اور عوام كی ہدايت اور احتجاجی مظاہروں كے ذريعے شاہ كی حكومت سے اپنی مخالفت كااعلان كيا ۔
شہيد مزاری نے مسجدوں میں ثقافتی مراكز تشكيل دے كر علاقے كے نوجوانوں كی ہدايت كے سلسلے میں قابل قدر خدمات انجام دیں اور سيستان و بلوچستان كے پس ماندہ صوبے میں متعدد كتب خانوں اور مدرسوں كی تشكيل میں اہم كردار ادا كيا ۔