بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ''ايكنا'' شعبہ لبنان كی رپورٹ كے مطابق علامہ فضل اللہ نےامريكی محقق '' نيكولاس نو'' كی قيادت میں بلغاریہ، ڈنمارك ، يونان ، مكزيك، برطانیہ ، جرمنی ، اٹلی، جنوبی كوريا اور امريكہ سے آئے ہوئے طلباء كے گروپ سے ملاقات كی جس میں دنيا كے سماجی اور فكری مسائل پر تبادلہ خيال كيا اور دنيا كے سماجی اور سياسی مسائل سے آگاہی كی ضرورت پر زور ديا ۔ انھوں نے كہا كہ انسانی حقيقت كی پہچان ، اس كی دين سے وابستگی ہے اور یہ كسی خاص سياست يا خطہ سے مخصوص نہیں ہے۔ انسان عقل و فكر كا مرقع ہے۔ اسی لیے وہ فكری پياس بجھانے كے لیے تجربات كا متلاشی رہتا ہے۔
علامہ فضل اللہ نے كہا كہ مختلف نظريات اور رجحانات كے ہوتے ہوئے اچھے ماحول میں گفتگو اور انسانوں كی فكری وحدت اور افھام وتفھيم كی طرف رہنمائی كی جانا چاہئیے۔
انھوں نے كہا كہ مسلمانوں نے ہميشہ تہذيبوں كے مابين گفتگو ، انسانی مفادات كے تحفظ اور احترام متقابل كی بات كی ہے باوجود اس كے كہ مغربی تہذيب اور اسلامی تہذيب میں فكری اور فلسفی اختلاف ايك واقعيت ركھتا ہے۔ انھوں نے كہا كہ ہم امريكی عوام اور ان كے علمی اور ثقافتی مراكز سے بھی گفتگو كے خواہاں ہیں اور اميد كرتے ہیں كہ نيا امريكی صدر سابقہ صدرجارج بش كی غلط سياست كی بناء پر جہان اسلام میں پائی جانے والی نفرت كو كم كرنے میں اپنا كردار ادا كرے گا۔
260753