اس ہتاك اور گستاخ كامیڈين نے قرآن مجيد كو خطرناك قرار ديتے ہوئے كہا: ہمیں جہاں اور جب بھی یہ كتاب ملے اسے جلادينا چاہئے اور اس كے نتائج سے ہراساں نہیں ہونا چاہئے».
يادرہے كہ شبانہ رحمن نے البتہ قرآن كو جلانے كی جرأت تو نہ كی مگر اس سے پہلے بھی اس نے ايك تہيئٹر كے دوران مسلمانوں اور ان كے مقدسات كی توہين كرتے ہوئے امت مسلمہ اور اس كے مقدسات كا مذاق اڑايا تھا.
شبانہ رحمان 1976 كو پاكستان كے شہر كراچی میں پيدا ہوئی اور 1977 میں جب اس كے والد كو ناروے میں باورچی كی حيثيت سے كام ملا تو یہ خاندان ناروے منتقل ہوا. اس نے وہاں «ڈيگفن نوردبو Dagfinn Nordbø » نامی غيرمسلم نارويجن مرد كے ساتھ شادی رچالی اور اسلامی حتی كہ يورپی معاشرتی حدود توڑنے كے حوالے سے مشہور ہوئی. شبانہ زيادہ سے زيادہ معاشرتی آزادی اور مرد – عورت كے آزادانہ تعلق اور روايت شكنی كے حوالے سے سرگرم عمل ہے. یہ گستاخ كامیڈين اداكارہ 2006 سے نيويارك كے كامیڈی انسٹٹيوت American Comedy Institute میں كام كررہی ہے.
يادرہے كہ مسلمانوں كی غفلت اور ناعاقبت انديش اناركسٹ گروہوں كی جانب سے اسلام كے اندرونی اختلافات كو ہوادينے كی بنا پر مغربی ممالك میں اسلام، قرآن، نبی اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ديگر مقدسات كے خلاف توہين و گستاخی كا سلسلہ كئی برسوں سے جاری ہے اور اس سلسلے میں دشمنان اسلام فلم، تصوير، كارٹوں، كتاب، ٹيلی ويژن پروگراموں، مقدس اسلامی مقامات كی شكل میں گناہ و فساد كے مراكز قائم كرنے كا اہتمام كرتے آئے ہیں جس كی وجہ سے امريكہ اور يورپ میں حتی كہ فوجی اور سول حكام نے مسلمانوں كو نسلی امتياز كا نشانہ بنانے سے بھی گريز نہیں كيا ہے اور آج اسلام كی پكار ہے كہ :
مسلمان كہاں ہیں؟ مسلمانوں كے قائدين كہاں ہیں؟ علماء اسلام كہاں ہیں اور كيا كررہے ہیں؟
منبع : ابنا
http://www.abna.ir/data.asp?id=111708&lang=6