آسٹريليا میں ايرانی سفير :يورپی میڈيا كی اسلام دشمنی سے مقابلہ كرنے كی قدرت نہیں ركھتے

IQNA

آسٹريليا میں ايرانی سفير :يورپی میڈيا كی اسلام دشمنی سے مقابلہ كرنے كی قدرت نہیں ركھتے

12:39 - September 11, 2008
خبر کا کوڈ: 1686660
بين الاقوامی گروپ: يورپی ممالك كے حكمرانوں اور سياستددانوں كے اہداف كا سرلوحہ اسلام دشمنی ہے۔ ہم بھی اس سے مقابلہ كرنے كی كوشش كرتے ہیں ليكن يورپ كے تمام میڈيا سے مقابلہ كرنے كی قدرت نہیں ركھتے۔

آسٹريليا میں اسلامی جمہوریہ ايران كے سفير" محمد كيارشی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كےنامہ نگار سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ اس بات كے پيش نظر كہ میڈيا لوگوں كےافكار كو تبديل كرنے میں بنيادی كردار اد ا كرتا ہے لہذا ضروری ہے كہ ہمیں اس بات كی طرف خصوصی توجہ دينا چاہیے ليكن افسوس سے كہا جا سكتا ہے كہ ايران نے يورپی میڈيا میں حاضر ہونے كے لیے كوئی مثبت كام انجام نہیں ديا ہے۔انھوں نے كہا كہ سعودی عرب يورپی ممالك كے میڈيا كا ايك اہم حصہ ہے اور اس میڈيا كی سياست كو رخ دےسكتا ہے ليكن ايران جو سب ملكوں سے زيادہ يورپی سياست كا مخالف ہے ، نے اس مسئلہ كی طرف بالكل توجہ نہیں دی ہے اور ہم عملی طور ر اس اسلام دشمنی كو روكنے كے لیے كوئی ابزار نہیں ركھتے كيا رشی نے واضح كيا كہ دنيا میں ہونے والے تمام نظام اور دہشتگردی كے واقعات كا يورپی میڈيا میں اسلام اور اسمای قتل كے نام سے تعارف كروايا جاتا ہے اور لوگوں كو اس دين الہی سے خوف دلايا جاتا ہے۔ اور تقريباً ۲۶ ميليوں مسلمان يورپ میں زندگی كرتے ہیں جو لوگوں كےارادوں میں اہم كردار ادا كر سكتےہیں۔
انھوں نے يورپی معاشروں میں اسلام كے موجودہ مقام كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ اس وقت يورپی دنيا نیں اسلام كو اچھی نگاہ سےنہیں ديكھا جاتا اور كيمونيزم كی شكست كےبعد يورپی ممالك كی تمام تر جدوجہد اسلام كے خلاف ہو گئی ہے اور ان كے پروگراموں میں اسلام دشمنی سرفہرست ہے۔ ايرانی سفير نے كہا كہ آسٹريليا واحد يورپی ملك ہے۔ جس نے ۱۹۱۲ء سے اسلام كو سركاری طورپر قبول كيا ہوا ہے اور مسلمانوں كا اس ملك میں خاص مقام ہے: بنابرين آسٹريليا میں ايرانی سفارت خانہ بھی اپنی سرگرميوں كو انجام اپنے كسی قسم كی كوئی پابندی نہیں ہے اور طرفين كے درميان ہونے والے عہد و پيمان كے مطابق وہ اپنے دين اور ثقافتی پروگرام منعقد كرتا ہے۔ كيارشی نے ايرانی سفارت خانے كی سرگرميوں كا ذكر كرتےہوئے كہا كہ ايران كی تمام دينی سرگرمياں، مركز اسلام، امام علی ﴿ع﴾ كےتوسط سے انجام پاتی ہیں اس كےعلاوہ اس سفارت خانے كا اور كوئی دينی اور قرآنی پروگرام منعقد نہیں ہوتا فقط قرآنی اور دين كتابیں اسلامی مراكز اور لوگوں كو دی جاتی ہیں۔ انھوں نےمزيد كہا كہ یہ سفارت خانے كا جرمنی زبان میں ايك مجلہ " اينفورماسيون" ہر تين چار مہينے میں ايك مرتبہ نشر كر كےايران كی مذہبی اخبار اور اديان كےدرميان گفتگو سے مربوط سيميناروں اور دنيائے اسلما كےتازہ ترين مسائل جيسے پردہ وغيرہ كو بيان كيا جاتا ہے۔ انھوں نے آخر میں آسٹريليا میں مقيم ترك لوگوں كی مذہبی سرگرميوں كو سراہتے ہوئے كہا كہ تقريبا ۲ لاكھ ترك آسٹريليا میں آباد ہیں اور اپنی حكومت كی مالی امداد كے بغير یہ لوگ اپنی مدد آپ كے تحت بہترين قرآنی اور دينی پروگرام منعقد كرتے ہیں۔ اور اسلام كی نسبت ايك خاص تعصب ركھتے ہیں اور ان كی یہ كوشش ہے كہ وہ اس غير اسلامی معاشرے میں اپنے دين كی مكمل طور پر حفاظت كریں۔
291923
نظرات بینندگان
captcha