علمائے ہند اسمبلی كے سيكرٹری جنرل حجت الاسلام " علی حيدر قاضی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كے نئی دہلی میں گئے ہوئے نامہ نگار سے گفتگو كے دوران، عورتوں كی علمی ترقی كو معاشرے كی ترقی كا ايك بہترين ذريعہ قرار ديا ہے۔ انھوں نے پارليمنٹ كے آئندہ كے انتخابات میں اپنی شركت كے بارے میں كہا كہ ہمارا ارادہ ہے كہ پارليمنٹ میں كم از كم ايك شيعہ ركن كےہونے سے ہم بہتر طور پر اپنی آواز كو حكمرانوں كے كانوں تك پہنچا سكتےہیں اور شيعوں كےحقوق كا موثر انداز سے دفاع كر سكتے ہیں۔ قاضی آباد كے امام جمعہ اور نئی دہلی كی شاہی مسجد كے امام جماعت حجت الاسلام حيدر علی قاضی نے اس علاقے كے شيعوں كی دينی اور قرآنی سرگرميوں كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ شيعہ ، دينی امور میںبہت فعال اور مختلف مذہبی پروگراموں میں بھرپور شركت كرتے ہیں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ قرآنی پروگراموں میں زيادہ تر ناظرہ قرآن پر توجہ دی جاتی ہے اور تجويد ، ترتيل اور تفسير قرآن كی زيادہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ حيدر علی قاضی نے كہا كہ ہندوستان كے شيعہ ، ايران كے اسلامی انقلاب كےبانی حضرت امام خمينی ﴿رح﴾ اور قائد انقلاب اسلامی ﴿مدظلہ العالی﴾ سے خصوصی لگاو ركھتے ہیں اور ہمارے لیے فخر كی بات یہ ہے كہ ايران، اسلامی انقلاب كی كاميابی كے آغاز سے ليكر آج تك امريكہ كی دھمكيوں كا ڈٹ كر مقابلہ كر رہا ہے۔ حجت الاسلام قاضی نے ہندوستان كے شيعوں كی جانب سے وقف شدہ اموال اور املاك كی طرف اشارہ كرتےہوئے كہا كہ یہ املاك يا تو مختلف افراد كےقبضے میں ہیں يا پھر حكومت نے ان پر قبضہ جمايا ہوا ہے۔ اور ہماری كوشش ہے كہ ہم قانون اور حكومت ہندوستان كے آئين كےتحت ان املاك كو واپس لیں۔ علمائے ہند اسمبلی ، شيعوں كے ۷۲ علماء و دانشوروں كی شركت سے ۲۰۰۸ء میں تاسيس ہوئی ہے۔
301834