اعزازی نامہ نگار/محمد اميد وار: آج كا علم كہتا ہے كہ نہ فقط زمين بلكہ آسمان بھی وسعت اختيار كر رہے ہیں اور قابل غور بات یہ كہ قرآن كی یہ تعبير " انا لموسعوں" ہم وسعت دينے والے ہیں" اس بات كی غماز ہے كہ یہ وسعت اور توسيع ہميشہ سے ہے او رہميشہ جاری ہے۔ " والسماء بنينا ھا بايد وانا نالموسعون" اور آسمان كو ہم نے اپنی طاقت سے بنايا ہے اور ہم ہی اسے وسعت دينے والے ہیں۔ ذار يات آيت۴۷۔
۱۹۲۹ء كو " ایڈوين ھابل" نے ملاحظہ كيا كہ دور دراز كی كہكشانیں بہت تيزی سے زمين سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ انھوں نے یہ مطلب دوسرے دانشوروں كو بتايا، انھوں نے بھی كہكشانوں كا كرہ زمين سے فاصلہ كا ما پا تو انھیں بھی معلوم ہوا كہ یہ كہكشانیں زمين سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ اس كےعلاوہ انھوں نے مشاہدہ كيا كہ ستاروں كے آپس كا فاصلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اور بہت جلد سب نے قبول كر ليا كہ كائنات وسعت اختيار كر رہی ہے۔ اس كے باوجود كہ كائنات وسعت اختيار كرتی جا رہی ہے۔ ليكن جس كرہ زمين پر ہم ساكن ہیں وہ سكڑتی جا رہی ہے۔" اولم يرو انا نأتی الارض فننقصھا من أطرافھا"﴿عد/۴۱﴾
زمين كا یہ سكڑنا، كرات كے بننے كے وقت سے شروع ہے، یہ كرات ابتداء میں آگ كے گولوں كی طرح تھے جيسے سورج پھر بتدريج ٹھنڈا اور بھاری بھركم ہوتا گيا جيسے چاند اور زمين، لہذا زمين ستاروں كی طرح جتنی بھی اس كی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے یہ آہستہ آہستہ بھاری اور موٹی ہو رہی ہے۔ ، اس كا حجم چھوٹا ہو گيا ہے۔اور وزن زيادہ ہو گيا ہے اور يوں یہ آہستہ آہستہ اپنی زندگی كے خاتمہ تك پہنچ رہی ہے۔ آج كا علم كہتا ہے نہ فقط كرہ زمين آسمان بھی وسيع تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اور قرآن كی تعبير " انا لموسعون" ہم وسعت دينے والے ہیں۔ اس سے استفادہ كرتے ہوئے كہا جاتا ہے كہ یہ جملہ اسمیہ اور اسم فاعل اس بات پر دليل ہے كہ یہ توسيع ہميشہ رہی ہے۔ یہ وہی چيز ہے جسے اس دور میں ثابت كيا جا چكا ہے۔ " فرد ہويل" معتقد ہے كہ ان كرات كےپيچھے ہٹنے كی سرعت كا جو اندازہ لگايا گيا ہے وہ تقريبا ايك سكينڈ مين ۶۶ ہزار كلومیٹر ہے۔ وہ كہكشانیں جو ہماری قطر سے بہت دور ہیں ان كےكم نور كی وجہ سے ان كی سرعت اور تيزی كا اندازہ لگانا كافی دشوار ہے۔ آسمان سے لی جانے والی تصاوير اس بات كو كشف كرتی ہیں كہ ان كہكشانوں كا فاصلہ بہت تيزی سے بڑھ رہا ہے۔ بہ تعبير ديگر كہكشان جتنی ہم سے دور ہو گی اتنی ہی تيزی سے ہم سے دور تر ہوتی چلی جائے گی۔ سب سے پہلے اس حقيقت كو " سيفلر" نامی دانشور نےكشف كيا تھا اس كے بعد" ھابل" نے ۱۹۲۹ء كو یہ ستارے منظم طورپر ايك دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ يعنی وہ كہكشانیں جن كا ہم سے فاصلہ دس لاكھ نوری سال ہے وہ ايك سيكنڈ میں ۱۸۶ كلومیٹر كی رفتار اور جن كہكشانوں كا فاصلہ ۲۰ لاكھ نوری سال ہے وہ ايك سيكنڈ میں ۳۷۲ كلو میٹر كی رفتار سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
302393