بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' نے قومی لائبريری كے تعلقات عامہ سے نقل كيا ہے كہ اسلامی جمہوریہ ايران میں ہنگری كے سفير " گيورگی بوستين" نے ۴ اكتوبر كو ايرانی صدر كے ثقافتی مشير اور ايران كی قومی لائبريری كے انچارج " علی اكبر اشعری" سے ملاقات كی۔ ايرانی صدر كے مشير قومی لائبريريوں كو ملتوں كا ثقافتی اور علمی حافظہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ جناب سفير كا اپنی پہلی فرصت میں قومی لائبريری میں آنا ، دو ملتوں كے درميان ثقافتی روابط كی وسعت كی نويد ديتا ہے۔ گيورگی بوستين كہ جن كے ہمراہ ہنگری كے عظيم فيلسوف اور مشرق شناس پروفيسر " ميوكلوس ماروت" اور خاتون پروفيسر " اواماريا پرمياس" بھی تھے نے ان دو شخصيوں كو ہنگری كےعلمی معاشرے كے نمائندے قرار ديتے ہوئے ايران قومی لائبريری سے تعاون میں مزيد اضافہ كا نام ديا ہے۔ انھوں نے ہنگری میں ابوعلی سينا نامی ادارے كی تاسيس كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ہمیں اميد ہے كہ ايران كے اہم ثقافتی مراكز جيسے قومی لائبريری ، اس مركز ابو علی سينا سے تعاون فرمائیں گے۔ ہنگری كے سفير نے آخر میں كہا كہ میں ايرانی عوام اور اس ثقافت كو پسند كرتا ہوں اور ايران میں اپنی سفارت كے دوران ہنگری كےلوگوں كو ايرانی ثقافت سے آگاہ كرنے كے لیے زيادہ سے زيادہ كوشش كروں گا۔
303095