بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے " rue89" سے نقل كيا ہے كہ "نيويارك ٹائمز" نے اپنے ايك مقالے میں فرانس كے مسلمان طلباء كی اس ملك كے كيتھولك فرقے كے سكولوں میں شركت كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كيتھولك فرقے كے " مارسی" نامی ايك سكول میں مسلمانوں كی حالت كو بيان كيا ہے۔ وہ لكھتا ہے كہ ماہ مبارك رمضان میں اس سكول كی كينٹين تقريبا طلباء سے خالی تهی كيونكه اس كيتهولك فرقےكے سكول میںاسی فی صد مسلمان اسٹوڈنٹس تعليم حاصل كرتے ہیں یہ طلباء ظهركے وقت اكٹھے ہو كر نماز با جماعت قائم كرتے ہیں۔ اس سكول كے ايك مسلمان اسٹوڈنٹ نے اس تعليمی مركز كی شرائط پر رضايت كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ فرانس كےگورنمنٹ سكولوں كے بالعكس اس سكول میں ہمارے دين و اعتقادات كا احترام كيا جاتا ہے اور ہم اسلامی حجاب كے ساتھ كلاسوں میں حاضر ہو سكتے ہیں۔ نيويارك ٹائمز كی رپورٹ كے مطابق فرانس میں فقط چار اسلامی سكول ہیں ليكن ان كے باوجود فرانس كے مسلمان اسٹوڈنٹس اس ملك كے عيسائی فرقے كيتھولك كے سكول میں تعليم حاصل كرنے كو ترجيح ديتے ہیں كيونكہ ان سكولوں میں مسلمانوں كے حقوق اور ان كے اعتقادات كا بہت زيادہ احترام كيا جاتا ہے۔
303468