بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" نے AP كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ فرانس كے مسلمانوں كی كونسل كے سربراہ " محمد موسوی" كی فرانس كے وزير داخلہ " ميشل اليوت ماری" سے ملاقات میں اس بات كا فيصلہ كيا گيا ہے۔ محمد موسوی نے اس ملاقات كے مثبت نتائج پر رضايت كا اظہار كرتے ہوئے كہا " زون۔ آلپ" علاقے كی پوليس كےاس نا قابل قبول اقدام كے بعد ہم نے حكومت فرانس سےاپيل كی تھی كہ وہ اس اسلام مخالف اقدام كے بارے میں جواب دے اور یہ خوشی كی بات ہے كہ فرانس كے وزير داخلہ نےمسلمانوں كی كونسل كی ملاقات كی دعوت كو اس مسئلے كے حل كے لیے قبول كر ليا ہے۔ انھوں نےمزيد كہاكہ اس ملاقات میں فرانس كے وزير داخلہ نے اس پوليس افسر كو برطرف كرنےكی خبر ديتےہوئے اميد ظاہر كی ہے كہ آئندہ اس قسم كے اقدامات نہیں ہوں گے۔"ليون " كی ايك بڑی مسجد كےسربراہ " كامل كيتان" نے بھی پوليس كے اس اقدام كی مذمت كی ہے۔ ياد رہے كہ اس پوليس آفسر نے " زون۔ آلپ" كے علاقے میں عيسائيوں كے علاوہ دوسرے اديان كے لوگوں پر كڑی نگاہ ركھنے كے بارے میں فرانس كی ميونسپل كمیٹی كی انجمن سے ايك حكم نامہ صادر ہونے كا اعلان كيا تھا۔ ليكن اس انجمن نے اپنے ايك بيانیے میں پوليس افسر كے اس اقدام كی مذمت كرتے ہوئے اس حكم نامہ كی ترديد كی تھی۔
304524