بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق بی بی سی نے كہا ہے كہ " امينہ ودود" نے تين سال پہلے پہلی دفعہ نيويارك میں امامت كروائی جس پر شيعہ اور سنی علماء نے شديد رد عمل كا اظہار كيا تھا جبكہ اس دفعہ برطانیہ كے شہر آكسفورڈ میں " اسلام اور فيمنيسم" پر ہونے والے سيمينار كے موقع پر اس خاتون نے نماز جمعہ كے خطبات دیے اور نماز جمعہ كی امامت كروائی ہے۔ سابقہ نماز جماعت كے موقع پر بعض اہلسنت علماء نے اسے كافر قرار ديا جبكہ بعض نے اسے اجتہاد سے تعبير كيا تھا اگرچہ اسلامی فقہ میں علماء كے اجماع كے مقابلے میں اجتھاد كو سختی سے منع كيا گيا تھا۔ كيونكہ علمائے اہل سنت كا اس بات پر اجماع ہے كہ مردوں اور عورتوں كے مخلوط مجمع كی جماعت اگر عورت كروائے تو یہ غير شرعی عمل ہے كيونكہ پيغمبر اسلام نے ہرگز كسی عورت كو ايسےگروہ كی امامت كروانے كی اجازت نہیں دی جس میں مرد بھی شامل ہوں۔ جبكہ بعض لوگ امينہ ودود كی حمايت كرتے ہوئے عورتوں كی امامت كو قرآن اور پيغمبر اسلام كے نزديك جائز قرار ديتے ہیں۔
307918