بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "ڈچ نيوز"كے حوالے سے نقل كياہے كہ یہ قانون اس لیے پاس كيا گيا تھا تاكہ عيسائی براداری كے جذبات كو مجروح نہ كيا جائے ليكن گزشتہ سال اس قانون سے خاطر خواہ استفادہ نہیں كيا جا سكا۔ اس سے قبل ہالينڈ كےمذہبی امور كے وزير " آرنسٹ ہايرس يالين" نے كہا تھا كہ اس قانون كے تحت كسی بھی دين كی اہانت جرم شمار ہو گی۔ اس نے مزيد كہا تھا كہ اس قانون كی موجودگی میں مسلمانوں اور اسلام كے خلاف ہونے والے حملوں كی بھی روك تھام ہو سكے گی۔ ليكن ہالينڈ كے كچھ افراطی باشندوں نے اس قانون كو آزادی بيان كے خلاف قرار ديا اور اس قانون كو ختم كرنے كا مطالبہ كر ديا جن كےدباو میں آ كر اس قانون كو ختم كيا جا رہا ہے۔
313640