بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق مصری روزنامہ " الاخبار" نےلكھا ہے كہ اس دو روزہ سيمينار میں دنيا كے مختلف ممالك كی ۴۰۰ شخصيات ، او آئی سی كے نمائندگان ،عرب ليگ، آسيسكو، اسلامی ممالك كی پارليمنٹ يونين اور اسلامی بينك كے رہنما شريك ہوں گے۔ اس سيمينار كے شركاء سيرت نبوی كے ثقافتی اور جديد زمانے كے حالات سے مطابقت كے حوالے سے تحقيقی اور علمی مباحثے انجام دیں گے۔ اس سيمينار میں يورپ اور امريكہ كی مسلمان اقليتوں كےلیے وركشاپ كا اہتمام كيا جائے گا جس میں تجربات كی وضاحت بھی دی جائے گی۔ سيرت اور سنت نبوی (ص) كے دفاع كی غرض سے عملی تجاويز اور مغرب كی طرف سے اہانت كے مقابلے میں بہترين راہ حل پر بھی بات چيت ہو گی۔ مصر كے مفتی علی محمد نے اس سيمينار میں شركت سے پہلے ہی كہا ہے كہ نبی اكرم (ص) كی ذات والا صفات كا احترام تمام مذاہب و اديان پر ضروری ہے اور اس حوالے سے اتحاد ويكجہتی كی ضرورت اور ايك دوسرے كے مقدسات كی توہين سے اجتناب كرنا ہے۔
314314