ہالينڈ كےبين الاقوامی قاری اور " لاہھ" شہر كی يونيورسٹی كےكامپيوٹر كے انجينئر " علی جواد" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے بين الاقوامی شعبہ سے ٹيلی فون پر گفتگو كرتےہوئے كہا كہ انھوں نے قرآنی مقابلوں كے سلسلہ میں تين بار ايران كا سفر كيا ہے اور تہران اور اصفہان كے قرآنی مقابلوں میں شركت كی ہے۔ انھوں نے ايرانی ميزبانی كو سراہتے ہوئے كہا كہ یہی وہ سبب بنتا ہے كہ بين الاقوامی قاری اور حفاظ كرام شوق سےايرانی مقابلوںمیں شركت كرتے ہیں۔ علی جواد نے كہا كہ انھون نے صرف ايران كے بين الاقوامی مقابلوںمیںشركت كی ہے تاہم وہ كوئی مقام كو حاصل نہ كر سكے ليكن ہر بار فائنل تك پہنچے ہیں۔ بين الاقوامی قاری نے مزيد وضاحت كرتے ہوئے كہا كہ میں نے دس سال كی عمر میں قرآن كی تعليم شروع كر دی تھی اور اب تقريبا دس سال سے ہالينڈ میں قرآنی سرگرميوں میں مشغول ہوں اور جرمنی ، بلجيئم اور ہالينڈ كی بہت ساری قرآنی محافل میں شركت كی ہے۔ علی جواد نے كہا كہ وہ كوشش كر رہا ہے كہ قرائت قرآن اور مفاہيم كو درك كرنے میں مزيد كوشش كرے ليكن متاسفانہ ہالينڈ میں برجستہ قاريوں كی كمی ہے لہذا وہ مصر اور ايران كے قاريوں سے رابطے میں ہے۔ انھوں نے كہا كہ وہ كئی بارے بڑے بڑے قاريوں كی محافل میں شركت كر چكےہیں اور اس سلسلہ میں تجربہ بھی حاصل كيا ہےجس میں مصر اور جنوبی افريقہ كےقاری شامل ہیں۔ ہالينڈ كے عراقی نژاد قاری نے تہران میں منعقدہ طلباء كے مابين مقابلے كے دوران كہا كہ مغربی ممالك میں قرآن كی سرگرمياں انتہائی ماند ہیں صرف ماہ مبارك رمضان میں ہی قرآنی محافل كا انعقاد كيا جاتا ہے جيسا كہ ايمسٹرڈيم كی مسجد میں قرآن مقابلے كا انعقاد كيا گيا ہے۔ انھوں نے مزيد كہا كہ مغربی ممالك میں قرآنی اور اسلامی كانفرنسوں كے انعقاد میں دشواری كا سامنا كرنا پڑتا ہے۔ ليكن اس سلسلہ میں اگر براعظم يورپ كے قاری اور حفاظ كرام باہمی رابطے میں رہیں تو یہ كام آسان ہو سكتا ہے۔
315400