بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق " نس نيوز" نےكہا ہے كہ "آری اوسٹلينڈر" جو كہ اس پارٹی كے ممبر ہیں نے كہا ہے كہ معاشرے میں مذہب كا كردار بہت اہم ہےاور میں ان لوگوں كا مخالف ہوں جو معاشرے میں مذہب كے كردار كو كم اہميت بيان كرتے ہیںاور اسے ترقی میں ركاوٹ سمجھتے ہیں۔ وہ كہتا ہے كہ ميرے نزديك اسلام جمہوريت سےبالكل ہم آہنگ ہے اور جو لوگ اس بات كی مخالفت كرتے ہیںوہ شدت پسندی كا شكار ہیں۔ كيونكہ اسلام میں ہر وہ چيز بيان كی گئی ہے جو ترقی اور بنيادی دستور كی تبين كےلیے ضروری ہے۔ انھوں نے كہا كہ مغرب كو چاہیے كہ وہ اسلامی ممالك میںسرگرم اداروں سے تعاون كریں اور اس سے ہم اسلامی شريعيت كو مغرب میں اچھی فضا فراہم كر سكتے ہیں كيونكہ اسلامی تعليمات میں جو كچھ بيان كيا گيا ہےوہ مغرب كےلیے ناقابل قبول نہیں ہے لہذا اس بارے بات چيت كی ضرورت ہےجبكہ مغرب كا رویہ اس حوالےسے ٹھيك نہیں ہے۔
318444