بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق سعودی اخبار" الرياض" نے لكھا ہے كہ جناب احسان اوغلو نے اقوام متحدہ كی طرف سےنيو يارك میں منعقد كی جانے والی" اديان كے مابين گفتگو" كی عالمی نشست كے اختتامی اجلاس میں كہا كہ اديان اور تہذيبوں كی كثرت كو دنيا میں عدل و انصاف ، صلح، انسانيت، اور باہمی تعاون كا بہترين مصدر قرار پانا چاہیے۔ انھوں نےذرائع ابلاغ كی طرف سے اسلام اور دہشت گردی كو باہم نتھی كرنے پر سخت تنقيد كی اور كہا كہ اس اقدام سے مغربی ذرائع ابلاغ نے لوگوں كو اسلام سے دور كرنے كے لیے مغربی معاشرے میں كردار ادا كيا ہے۔ اور اس اسلام كےخوف سے يورپ میں منفی اثرات سامنے آتے ہیںجس میں سے ايك مسلمانوں كے خلاف نفرت اور دوری ہے۔ انھوں نے كہا كہ اب مغرب كی بعض شخصيات اور ذرائع ابلاغ كا اسلام كی بابت رویہ عالمی ثبات میں كوئی كردار ادا نہیں كر سكتا۔ اور اقوام متحدہ كو چاہیے كہ وہ ان مغرضانہ اور بے اساس دعووں كو روكنے كے لیے جلد از جلد اقدام كرے۔
320186