مصری روزنامہ" الاہرام" كے خبرنگار " دنياريان" نے ذرائع ابلاغ كے پندرہویں فيسٹيول میں شركت كےموقع پر بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" سے بات چيت كرتے ہوئے كہا اسلامی ممالك نے ہميشہ مغربی میڈيا كے اسلام كے خلاف پراپيگنڈے كا جواب صبرو حوصلے سے ديا ہے اور مسلمانوں كو چاہیے كہ وہ اپنی اس معقول سياست كو آگے بڑھائیں اور غلط رد عمل سے پرہيز كریں۔ انھوں نے كہا كہ پيغمبر اسلام (ص) نے استدلال اور آگاہی كے ساتھ كفار سے بات كی اور مسلمانوں كو بھی چاہیے كہ وہ موجودہ مغربی يلغار كا مقابلہ آنحضرت (ص) كو نمونہ عمل بناتے ہوئے حكمت و دانائی سے كریں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ اسلامی میڈيا اتحاد و يكجہتی كا مظاہرہ كرتے ہوئے مسلمان دانشوروں سے بھر پور استفادہ كرے اور اس میڈيا سے ہم اسلامی سرگرميوں كو آگے بڑھا كر يورپی ممالك كے دوسرے اديان كے لیے بھی نمونہ عمل بن سكتے ہیں انھوں نے اہل اسلام سے اپيل كی كہ وہ اتحاد و يكجہتی كو اپنے لیے مشعل راہ قرار دیں اور كلمہ اسلام كے سامنے سر خم كر كے اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت كو مضبوط كریں۔ اسلام كو جو دوسرے اديان پر فوقيت حاصل ہے ان میں سے ايك حقيقت یہ ہے كہ اسلام دوسرے اديان كے بھی احترام كا قائل ہے اور ان كے پيروكاروں كو بھی احترام كی نگاہ سے ديكھتا ہے۔
324971