بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق " دارالسيدۃ رقیہ القرآن الكريم" سائٹ نے لكھا ہے كہ شيخ عبداللہ الحسين نے اس مضمون میں سورہ روم كی دوسری اور تيسری آيت سے استفادہ كرتے ہوئے كہا ہے كہ قرآن كی پشينگوئی بہت سچی ہے اور قائم آل محمد (ع) كا عالمی قيام بھی ايك صادق پشينگوئی ہے جسے قرآن نے بيان كيا ہے ۔ انھوں نے كہا كہ ۱۰۶ قرآنی آيات ہیں جنہیں مفسرين نے آئمہ معصومين (ع) كی احاديث كےتحت آخرالزمان میں حضرت مہدی (ع) كےظہور كا مويد قرار ديا ہے۔ انھوں نے سورہ قصص كی آيت نمبر ۵ اور ۶ كا تجزیہ و تحليل كرتے ہوئے لكھا ہے كہ شيخ طوسی نے اپنی كتاب الفیۃ میں اميرالمومنين (ع) سے نقل كرتے ہوئے لكھا ہے كہ مستضعفين فی الارض آل محمد (ع) ہیں كہ جنہیں خداوند حضرت مہدی (ع) كےعالمی قيام كے ذريعہ عزت دے گا اور ان كے دشمنوں كو ذليل و خوار كرے گا۔ انھوں نے معانی الاخبار " نامی كتاب سے امام صادق (ع) سے دو آيات كے ذيل میں نقل ہونے والی احاديث كا ذكر كرتے ہوئے لكھا ہے۔كہ پيغمبر اكرم (ص) سے ان دو آيات كےبارے میں سوال كيا گيا تو آپ نے اشكبار آنكھوں سے علی (ع) حسن (ع) اور حسين (ع) كی طرف اشارہ كيا اور انھیں مستضعفين فی الارض قرار ديا۔ شيخ عبداللہ الحسين نے اپنے مضمون میں كلمہ فرعون كو ستمگر حكمرانوں كی علامت قرار ديا اور كہا كہ ہر زمانے سے ہر امت میں كچھ ايسے افراد موجود ہوتے ہیں۔ اور پھر امام باقر (ع)اور امام صادق (ع) سے نقل كرتے ہوئے لكھا ہے كہ آپ نے انہی دو آيات كے ذيل میں قريش كے دو ستمگر افراد كی طرف اشارہ كيا كہ ان دو اور ان كے پيروكاروں كو خداوند آخرالزمان میں زندہ كرے گا اور حضرت مہدی (ع) كے قيام كے ذريعہ ان كے برے ماضی كا انتقام ليا جائے گا۔ اس مضمون میں قرآن كی كئی دوسری آيات پر بھی آخر الزمان كےحوالے سے بحث كی گئی ہے۔
۳۲۳۲۷۱