بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق " العربیہ نیٹ" سائٹ نے لكھا ہے كہ اس بيانیے میں آيا ہے كہ جو تصاوير بعض خبررساں ايجنسيوں نے دكھائی ہیں جن میں شيخ الازہر شمعون پيرز سےمصافحہ كر رہےہیں وہ صحيح ہیں ليكن یہ ملاقات اچانك ہوئی اور اس میں كوئی سابقہ ہم آہنگی اور آشنائی موجود نہ تھی۔ رپورٹ میں آيا ہےكہ " بان كی مون" كی دعوت پر جب مختلف شركاء وزراء آئےتو شمعون پيرز بھی ان شركاء كے درميان تھے۔ اور سيد محمد طنطاوی اسے بالكل نہیں جانتے تھے لہذا اچانك یہ چند سيكنڈ كی ملاقات پيش آئی۔ شيخ الازہر نے كويتی روزنامہ " الجريدۃ" سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ شمعون پيرز سے ہاتھ ملانا بالكل اچانك ہوا كيونكہ اچانك مختلف ممالك كی ۲۰ شخصيات سامنے آئیں جن میں سے ايك اسرائيل صدر بھی تھا۔ جب یہ تصاوير پہلی مرتبہ شائع ہوئی تو مصری پارليمنٹ اور شہيات نے شيخ الازہر پر سخت تنقيد كی اور اسے فلسطينی عوام كی اہانت قرار ديا۔ مصری پارليمنٹ كےممبران اور سياستدانوں نے انہیں شيخ الازہر كےمنصب سےبرخاست كرنےكا مطالبہ كيا ہے۔ اگر شيخ الازہر كا جواب صحيح ہو تو پھر كيا اتنی بڑی شخصيت كو اپنی معلومات پر غور كرنا چاہیے۔ كہ وہ كس طرح سياسی صدر كو نہیںجانتے جبكہ اسكا چہرہ اس قدر منفور ہے كہ عام مسلمان بھی اس كے مظالم كی وجہ سے اس سے آشنا ہے۔
328770