بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا'' شعبہ افغانستان نے بتايا ہے كہ اس قرآنی مركزكی ۷۳ سال پہلے بنياد ركھی گئی تھی ليكن اس كےلیے كوئی مناسب عمارت موجود نہ تھی ليكن حال حاضر میںايك جرمن ادارے كے توسط سےنئی عمارت اس مركز كےلیے مخصوص كر دی جائےگی۔ رپورٹ كےمطابق سنگ بنياد كی تقريب میں ضلع فارياب كےاجرائی كاموں كے سربراہ حبيب اللہ آوانے اس ادارے كا شكریہ ادا كيا اور كہا تين اسكول تين ماہ كےعرصہ میں حكومت مخالف لوگوں نے جلا دیے ہیںليكن اس وجہ سے اسكول بنانے كی ثقافت ختم نہیں ہو گی۔ ضلعی تعليم كےسربراہ نےكہا كہ اس سال ۴۲ اسكول بنائے گئےہیں جن میں ۲۰ ہزار كے لگ بھگ بچے تعليم حاصل كر رہے ہیں۔ ضلعی عہديداروں كا كہنا تھا كہ حفظ قرآن كا یہ مركز عام لوگوں اور جوانوں كےلیے جو قرآن كی تعليم حاصل كرنا چاہتے ہیں ايك مناسب جگہ ہے اور تعطيلات میں بچوں كےلیے قرآنی پروگراموں سے ہمیں خوشی حاصل ہو گی۔
330384