بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق " مشتركہ دين و زندگی"كے بين الاقوامی اجلاس سے " سيبوہ كيسيان" نے خطاب كرتےہوئےكہا كہ آج كی دنيا كی ضرورتوں میں سے ايك مشتركہ باہمی رہن سہن كےحصول كے لیے گفتگو كو وسعت دی جائے ہے۔ انھوں نے كہاكہ تمام اديان كےپيروكاروں كو چاہیے كہ ايك دوسرے كی شناخت كا لحاظ ركھیں اور صلح اور برابری كےساتھ ايك دوسرے كے ساتھ رہیں۔ انھون نے كہا چھٹی صدی قبل از عيسوی سےاب تك ارمينائی ايران میں زندگی بسر كر رہے ہیں پہلےشہر تبريز میں رہتے تھےاور اب بيشتر تہران میں رہتے ہیں او رموجودہ حالات میں ۳۰۰ كليسا اور ۳۴ مدارس ايران میں چلا رہے ہیں۔ ان كے پارليمنٹ میں بھی دو نمائندے موجود ہیںجو ان كی مشكلات اور مسائل كو حل كرنے كے لیے تگ و دو كرتےہیں۔
333339