سعودی محقق : مذہبی منافرت كو شہری حقوق سلب كرنے كا بہانہ نہ بنايا جائے

IQNA

سعودی محقق : مذہبی منافرت كو شہری حقوق سلب كرنے كا بہانہ نہ بنايا جائے

13:47 - December 16, 2008
خبر کا کوڈ: 1719852
بين الاقوامی گروپ: مختلف مذاہب اور اقوام كےدرميان گفتگو اور تعامل سے مشتركہ نقات مضبوط ہوں گے اور شدت پسندی كم ہو گی۔ اور مذہبی منافرت كو اسلامی ممالك میں شہری حقوق سلب كرنے كا بہانہ نہ بنايا جائے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق " راصد" نيوز چينل نے كہا ہے كہ سعودی عرب سے تعلق ركھنےوالے اسلامی محقق " محمد المحفوظ" نے گتزشتہ روز " اسلامی ادارے اور فرقہ وارنہ چيلنج" كے نام سے منعقدہ سيمينار میں خطاب كرتے ہوئے كہا كہ بعض اسلامی ممالك كی مشكل مذہبی كثرت نہیں ہے كيونكہ اس سے سماجی تعاون اور باہمی رابطے بڑہتے ہیں انھوں نےسورہ حجرات كی آيت نمبر ۱۳ كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ مذہبی اور قومی كثرت ايك قدرتی امر ہے۔ ليكن وہ چيز جو غير فطری ہے وہ یہ ہے كہ اسلامی معاشرے اپنے آئين كو مذہبی اور قومی كثرت كےبر خلاف تعين كریں انھوں نے كہاكہ جو لوگ مذہبی منافرت پھيلاتے ہیں ان كےلیے قانون وضع كر كے سزا دی جانی چاہیے۔ انھوں نے تعليم و تربيت كےنصاب میں بھی اصلاح كی ضرورت پر زور ديا ہے اور كہا كہ ايسا قانون وضع كيا جائے جس سے مذہبی منافرت اور فرقہ واريت كو ہوا نہ دی جا سكے بلكہ اخوت و برادری اس میں اہم نكتہ ہو۔
333596

نظرات بینندگان
captcha