روس میں ايرانی كلچرل سنٹر كےچيئرمين " ابوذر ابراہيمی تركمن" نے مذكورہ كتاب كے بارے میں كہا ہے كہ یہ كتاب ايك ہزار كی تعداد میں اشاعت كی گئی ہے اور ۱۳۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ انھوں نے كہا كہ اس كتاب میں فلسطينی بحران كی تاريخ اور اس كے دلائل و اسباب كو روسی ، عربی ، فرانسيسی اور انگريزی مصادر كے ذريعہ تجزیہ و تحليل كيا گيا ہے اور مسئلہ فلسطين كا راہ حل پيش كيا گيا ہے۔ اس كے عوامل پر بھی تبصرہ كيا گيا ہے۔ كتاب كا اصلی عنوان فلسطينيوں اور اسرائيليوں كےباہمی مذاكرات پر تبصرہ ہے اور اس مسئلے كےحل كے لیے ثالثی كا كردار اداكرنے والوں كی جدوجہد كو بھی زير بحث لايا گيا ہے۔ یہ كتاب تين ابواب پر مشتمل ہے جس كے پهلےباب میں فلسطينی بحران كی تاريخ دوسرے باب میں مسئلہ فلسطين كی موجودہ صورتحال اور تيسرے باب میں مسئلہ فلسطين كے لیے پيش كیے گئےراہ حل كو زير بحث لايا گيا ہے۔ كتاب كے مصنف روس كے عالمی روابط پر مشتمل كالج كے فارغ التحصيل ہیں اور انھوں نے سياسی علوم میں ڈاكٹریٹ كيا ہوا ہے۔
334436