" سوشيانس" كی دنيا انسانی افكار كی بہترين دنيا ہے

IQNA

" سوشيانس" كی دنيا انسانی افكار كی بہترين دنيا ہے

13:56 - December 21, 2008
خبر کا کوڈ: 1721091
فكرونظر گروپ: " سوشيانس" كے كلمہ كو پہلی بار اشوزر تشست نے اپنے لیے استعمال كيا تاكہ اس كے ذريعہ انسانی فكر كو جلا بخشی جا سكے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق زرتشتی رہنما سروش پور نے " مہدويت" كےعنوان پر ہونے والی كانفرنس میں " فلسفہ انتظار" كے حوالے سے گفتگو میں شريك ہوتے ہوئے كہا كہ زرتشی آئين میں انتظار كی اہميت یہ ہے كہ " سوشيانس" (منجی) كا وجود پہلی مرتبہ قديم ادبيات میں ذكر ہوا ہے اور اس كلمہ كو پہلی بار اشوزرتشت" نے استعمال كيا ہے۔ " سوشيانس" " سو" سے نكلا ہے جس كا مطلب نفع پہنچانا ہے۔ انھوں نے اس كلمہ كو پہلی بار انسانی فكر كو جلا بخشنے كے معنی میں استعمال كيا۔ اس رہنما نے مزيد كہا كہ آئين زرتشت میں منجی كی صفات مين یہ ہے كہ وہ اس كا اسلوب محبت اور اختيار سے لبريز ہو گا اور زرتشت كا عقيدہ ہےكہ منجی صرف راستہ دكھاتا ہے اور كسی كو مجبور كر كے سيدہی راہ پر نہیں لاتا بلكہ وہ لوگوں كو پوری آزادی كے ساتھ راہ پر چلنے كےلیے آمادہ كرتا ہے۔ انھوں نے منجی كی صفات كے حوالے سے مزيد كہا كہ ان كی صفات میںسے ايك صداقت اور سچائی ہے۔ اور ان كا زمانہ انسانی افكار كے عروج كا زمانہ ہو گا ۔
335022
نظرات بینندگان
captcha