(بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا") روزنامہ" Arab News" كے مطابق نجی شعبہ میں اسلامی ترقياتی ادارے كے سربراہ خالد العبودی نےاخبار كو دیے گئے انٹرويو میں كہا ہے كہ اسلامی قوانين سودی قرضوں كو جائز قرار نہیں ديتے اورانہی قوانين كی پيروی كرنے كی وجہ سے اسلامی بينك ، موجودہ عالمی مالياتی بحران میں محفوظ رہے ہیں۔ انھوں نے مالياتی بحران كی جانب اشارہ كرتےہوئے كہا كہ عالمی بينكوں كی مالياتی مشكلات كی بينادی وجہ ايسے قرضوں كی فراہمی ہےجن میں سود كی شرح بہت زيادہ ہے۔
خالد العبودی نےكہا كہ اسلامی بينك اپنی مقررہ پاليسيوں پر عمل پيرا ہیں اور شرعی تنظيمیں دقت كے ساتھ ان كی سرگرميوں پر نظر ركھے ہوئے ہیں۔
العبودی نے۱۹۸۲ میں سعودی عرب كی وزارت اقتصاد و مالياتی امور میں كام كا آغاز كيا اور ۲۰۰۷ میں اسلامی ترقياتی بينك كے نجی شعبے كے سربراہ منتخب ہوئے ۔
336733